Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 106

By Maulana Wahiduddin Khan

موعظت حسنہ اس خصوصیت کا نام ہے جو درد مندی اور خیر خواہی کی نفسیات سے کسی کے کلام میں پیدا ہوتی ہے۔ جس داعی کا حال یہ ہو کہ خدا کی عظمت و جلال کے احساس سے اس کی شخصیت کے اندر بھو نچال آگیا ہو، جب وہ خدا کے بارے میں بولے گا تو یقینی طور پر اس کے کلام میں عظمتِ خداوندی کی بجلیاں چمک اٹھیں گی۔ جو داعی جنت اور جہنم کو دیکھ کر دوسروں کو اسے دکھانے کے لئے اٹھے اس کے کلام میں یقینی طور پر جنت کی بہاریں اور جہنم کی ہولناکیاں گو نجتی ہوئی نظر آئیں گی۔ ان چیزوں کی آمیزش داعی کے کلام کو ایسا بنادے گی جو دلوں کو پگھلادے اور آنکھوں کو اشک بار کر دے۔ دعوتی کلام کی اصل خصوصیات یہی دو ہیں حکمت اور موعظت حسنہ۔ تاہم ہمیشہ دنیا میں کچھ ایسے لوگ موجود رہتے ہیں جو غیر ضروری بحثیں کرتے ہیں۔ جن کا مقصد الجھانا ہوتا ہے نہ کہ سمجھنا اور سمجھانا۔ ایسے لوگوں کے بارے میں ایک سچا داعی جو انداز اختیار کرتا ہے، اسی کا نام جدالِ احسن ہے۔ وہ ٹیڑھی بات کا جواب سیدھی بات سے دیتا ہے۔ وہ سخت الفاظ سن کر بھی اپنی زبان سے نرم الفاظ نکالتا ہے۔ وہ الزام تراشی کے مقابلہ میں صبر کا اسلوب اختیار کرتا ہے۔ داعی حق کی نظر سامنے کے انسان کی طرف نہیں ہوتی بلکہ اس خدا کی طرف ہوتی ہے جو سب کے اوپر ہے۔ اس لئے وہ وہی بات کہتا ہے جو خدا کی میزان میں حقیقی بات ٹھہرے اور جس کے لئے اسے خدا کے یہاں شرمندہ ہونا نہ پڑے۔ داعیانہ کردار قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اور اگر تم بدلہ لو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنا تمہارے ساتھ کیا گیا ہے اور اگر تم صبر کرو تو وہ صبر کرنے والوں کے لئے بہت بہتر ہے (النحل ۱۲۶) اس آیت میں داعی کا وہ کردار بتایا گیا ہے جو مخالفین کے مقابلہ میں اس کو اختیار کرنا ہے۔ فرمایا کہ اگر مخالفین کی طرف سے ایسی تکلیف پہنچے جس کو تم برداشت نہ کر سکو تو تم کو اتناہی کرنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page