Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

کی اجازت ہے جتنا تمہارے ساتھ کیا گیا ہے۔ تاہم یہ اجازت صرف انسان کی کمزوری کو دیکھتے ہوئے بطور رعایت ہے۔ ورنہ داعی کا اصل کردار تو یہ ہونا چاہئے کہ وہ مدعو کی طرف سے پیش آنے والی ہر تکلیف پر صبر کرے۔ وہ مدعو سے حساب چکانے کے بجائے ایسے تمام معاملات کو خدا کے خانہ میں ڈال دے۔ مخاطب اگر حق کو نہ مانے۔ وہ اس کو مٹانے کے درپے ہو جائے تو اس وقت داعی کو سب سے بڑی تدبیر جو کرنی ہے وہ صبر ہے۔ یعنی رد عمل کی نفسیات یا جوابی کارروائیوں سے بچتے ہوئے مثبت طور پر حق کا پیغام پہنچاتے رہنا۔ 17-066 خدائی نشانیوں کا تجربہ قرآن میں پیغمبر اسلام ﷺ کے سفر معراج کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو ہم نے بابرکت بنایا ہے تاکہ ہم اس کو اپنی بعض نشانیاں دکھائیں۔ بے شک وہ سننے والا، دیکھنے والا ہے (بنی اسرائیل 1) قرآن کی اس آیت میں جس واقعہ کا ذکر ہے، وہ غالباً ہجرت سے ایک سال پہلے پیش آیا۔ اس وقت پیغمبر اسلام ﷺ مکہ میں تھے۔ رات کے وقت پر اسرار طور پر خدا کے فرشتہ نے آپ کو مکہ سے یروشلم پہنچایا۔ اس سفر کی ابتدائی منزل مسجد اقصٰی (دور کی مسجد) تھی۔ یہ دراصل وہ جگہ (site) ہے جہاں پہلے ہیکل سلیمان واقع تھا۔ اس ہیکل (عبادت گاہ) کو حضرت سلیمان نے ۰۰۲ ا ق م میں بنوایا تھا۔ اس کے بعد بابل کے بادشاہ بخت نصر نے ۵۸۶ ق م میں اس کو تباہ کر دیا۔ اس کے بعد اسرائیلی پیغمبر عزراہ اور نحمیاہ نے اس کو تقریباً ۵۱۵ ق م میں دوبارہ تعمیر کیا۔ اس کے بعد ٹیٹس رومی اپنی فوجوں کے ساتھ ۷۰ ء میں یروشلم آیا اور اس نے پورے ہیکل کو توڑ کر اس کو کھنڈر بنا دیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page