Urdu book · مطالعہ قرآن

خدائی نشانیوں کا تجربہ

Urdu book, p. 108

By Maulana Wahiduddin Khan

جب پیغمبر اسلام کا سفر معراج ہوا تو یہ مقام غالباً اسی طرح کھنڈر کی حالت میں تھا۔ کیوں کہ یہودیوں کا یہ عقیدہ تھا کہ ہیکل (عبادت گاہ) کی تعمیر صرف خدا کا پیغمبر ہی کر سکتا ہے۔ اس حادثہ کے بعد چونکہ ایسا کوئی پیغمبر ان کے یہاں نہیں آیا جو اس کی از سر نو تعمیر کرے۔ اس لئے وہ جگہ اسی ویران حالت میں پڑی رہی۔ روایات کے مطابق، پیغمبر اسلام کے اس سفر کے موقع پر تمام پچھلے پیغمبر اکٹھا ہوئے۔ انہوں نے اس جگہ نماز با جماعت ادا کی اور پیغمبر اسلام نے اس کی امامت فرمائی۔ یہ سفر جس کو قرآن میں اسراء کہا گیا ہے، اس کے بارے میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ اس میں لنریہ من آیاتنا (تاکہ ہم اس کو اپنی بعض نشانیاں دکھائیں) کا مطلب کیا ہے۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو مسجد اقصی یا یروشلم کے آس پاس موجود ہیں۔ یعنی سابق پیغمبروں کے آثار اور زمینی شادابی وغیرہ۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس کو اس غیر معمولی سفر سے متعلق مانا جائے۔ جیسا کہ خود آیت میں ارشاد ہوا ہے (سبحان الذي اسرى بعبده ليلاً من المسجد الحرام إلى المسجد الأقصى)۔ اسراء کے اس واقعہ کا سب سے زیادہ اہم پہلو یہ ہے کہ وہ ایک بے حد تیز رفتار سفر کی صورت میں ہوا۔ اس ”نشانی“ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس جدید امکان کا پیشگی تعارف کرایا جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے دور نبوت میں ظاہر ہونے والا تھا۔ یعنی وہی چیز جس کو آج جدید مواصلات (Modern Communication) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں فطرت کی جو نئی طاقتیں انسان کے قبضہ میں آئی ہیں انہوں نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ انسان انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ سفر کرے، وہ اپنے پیغامات کو ایک لمحہ کے اندر دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچادے۔ پیغمبر اسلام ﷺ سارے اہل عالم کے لئے نذیر و بشیر بنا کر بھیجے گئے تھے (الفرقان 1) آپ کی بعثت کی اس عالمی نوعیت کا تقاضا تھا کہ آپ کے پیروؤں کو وہ اسباب دئے جائیں جن کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page