Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 109

By Maulana Wahiduddin Khan

ذریعہ وہ نسل در نسل آپ کے دین کی عالمی اشاعت کر سکیں۔ مذکورہ ذمہ داری کی ادائیگی اس کے بغیر ممکن نہ تھی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام کے بعد ایسے حالات پیدا کئے جن کے نتیجہ میں مواصلات کا نیا دور دنیا میں آگیا۔ پیغمبر اسلام ﷺ کے زمانہ میں اونٹ پر سفر ہوتا تھا۔ چنانچہ ایک شخص کو مکہ سے یروشلم تک پہنچنے کے لئے ایک مہینہ سے زیادہ لمبی مدت درکار ہوتی تھی۔ مگر اب جدید انقلاب نے اس معاملہ کو یکسر بدل دیا ہے۔ پیغمبر اسلام کا یہ تیز رفتار سفر گویا کمیونیکیشن کے نئے دور کا افتتاح تھا جو خود آپ کے دین کے لئے پیشگی بشارت کے طور پر کر لیا گیا۔ 17-067 خوش حال طبقہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو اس کے خوش حال لوگوں کو حکم دیتے ہیں، پھر وہ اس میں نافرمانی کرتے ہیں۔ تب ان پر بات ثابت ہو جاتی ہے۔ پھر ہم اس بستی کو تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔ (بنی اسرائیل ۱۶) یہ قرآن کے مخصوص اسلوب میں فطرت کے ایک قانون کا بیان ہے۔ وہ یہ کہ کسی قوم کے بننے اور بگڑنے کا انحصار اس کے طبقہ خواص پر ہوتا ہے، نہ کہ طبقہ عوام پر۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر ہمیشہ اپنے دعوتی اور اصلاحی عمل کا نشانہ خواص کو بناتے ہیں۔ عوام کو اپنے دعوتی عمل کا اصل نشانہ بنانا پیغمبرانہ سنت کے مطابق نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی قوم کی اصلاح یا کسی قوم کے بگاڑ کا معیار اس قوم کا خوش حال اور سر بر آوردہ طبقہ ہوتا ہے۔ یہی طبقہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کا مالک ہوتا ہے۔ یہی طبقہ اپنے وسائل کے ذریعہ لوگوں پر اثر انداز ہونے کی طاقت رکھتا ہے۔ یہی طبقہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ کسی گروہ کے اوپر قائد بننے کی قیمت ادا کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی قوم کے سر بر آوردہ طبقہ کی اصلاح پوری قوم کی اصلاح ہے اور کسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page