Urdu book · مطالعہ قرآن

عربی زبان

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

بدوؤں میں عربی زبان اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے۔ قرآن کی ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں : فدمدم عليهم ربهم بذنبهم فسواها (الشمس ۱۲) الاصمعی کو یہ فکر ہوئی کہ خالص عرب کس خاص مفہوم میں اور کس خاص موقع پر "دمدم" کا لفظ بولتے ہیں۔ اس دھن میں وہ عرب کے ایک بدو قبیلہ کے پاس گیا۔ وہ ایسا کر سکتا تھا کہ کسی بدو سے پوچھتا کہ تم لوگ دمدم کا لفظ کس معنی میں بولتے ہو مگر اس نے اس پر قناعت نہیں کی۔ اس نے چاہا کہ کوئی ایسا موقع آئے جب کہ ایک بدو بے ساختہ طور پر خود سے دمدم کا لفظ بول پڑے۔ اس مقصد کے لئے وہ ایک خانہ بدوش بد و خاندان کے ساتھ شامل ہو گیا۔ تقریباً چھ مہینے گزر گئے لیکن بدو کی زبان سے دمدم کا لفظ اسے سنائی نہیں دیا۔ آخر کار ایک دن ایسا ہوا کہ ایک مقام پر خیمہ لگا ہوا تھا۔ اور وہاں دن کے کھانے کے لئے سالن پک رہا تھا۔ بدو مرد خیمے کے اندر تھا اور اس کی عورت باہر کچھ کام کر رہی تھی۔ الاصمعی بدو کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ سالن پکتے پکتے جب وہ لمحہ آیا کہ اس کی حرارت سو ڈگری پر پہنچ گئی اور برتن کے اوپر رکھا ہوا ڈھکن بھاپ کی جوش سے ابل پڑا تو بدو نے اپنی بیوی کو اس کی خبر دیتے ہوئے کہا: دمد مت۔ یہ سنتے ہی الاصمعی خیمے سے نکل کر یہ کہتا ہوا بھاگا کہ : ”والله وجدت والله وجدت“ ”خدا کی قسم میں پا گیا خدا کی قسم میں پا گیا۔“ اس طرح کئی سو سال تک ہزاروں اہل علم محنت کرتے رہے۔ وہ مختلف پہلوؤں سے عربی زبان کی حفاظت اور تدوین میں مصروف رہے۔ اس کا نتیجہ آج ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ جس طرح قرآن اپنی اصل حالت میں کامل طور پر محفوظ ہے اسی طرح اس کی زبان عربی بھی کامل طور پر محفوظ ہے۔ زبان و ادب کی تاریخ میں یہ ایک انتہائی نادر استثناء ہے، اس کی کوئی دوسری مثال تاریخ میں موجود نہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آج قرآن کو سمجھنا عام لوگوں کے لئے اسی طرح نا ممکن ہو جاتا جس طرح دوسری مذہبی کتابوں کے ابتدائی نسخوں کو سمجھنا عام لوگوں کے لئے نا ممکن ہو چکا ہے۔ دوسری تمام مذہبی کتابیں ترجموں کی مدد سے پڑھی جاتی ہیں۔ جب کہ قرآن کا مطالعہ آج بھی اس کی اصل زبان میں کیا جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page