Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 110

By Maulana Wahiduddin Khan

قوم کے سر بر آوردہ طبقہ کا بگاڑ پوری قوم کا بگاڑ۔ دنیا مقصود اصلی نہیں قرآن میں ارشاد ہوا ہے: جو شخص عاجلہ کو چاہتا ہو، اس کو ہم اس میں سے دے دیتے ہیں، جتنا ہم جس کو دینا چاہیں۔ پھر ہم نے اس کے لئے جہنم ٹھہرا دی ہے، وہ اس میں داخل ہو گا بد حال اور راندہ ہو کر۔ اور جس نے آخرت کو چاہا اور اس کے لئے دوڑ کی جو کہ اس کی دوڑ ہے اور وہ مومن ہو تو ایسے لوگوں کی کوشش مقبول ہوگی۔ ہم ہر ایک کو تیرے رب کی بخشش میں سے پہنچاتے ہیں، ان کو بھی اور ان کو بھی۔ اور تیرے رب کی بخشش کسی کے اوپر بند نہیں۔ (بنی اسرائیل ۱۸ - ۲۰) دنیا میں زندگی گزارنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے، دنیا کے ذریعہ دنیا کو حاصل کرنا۔ دوسرا ہے، دنیا کے ذریعہ آخرت کو حاصل کرنا۔ یہ دونوں ہی مواقع ہر آدمی کے لئے یکساں طور پر کھلے ہوئے ہیں۔ یہ آدمی کا اپنا کام ہے کہ وہ دونوں میں سے کس کو لیتا ہے اور کس کو چھوڑ دیتا ہے۔ آدمی کو ایک ایسا وجود دیا گیا ہے جو نہایت اعلیٰ ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کا مالک ہے۔ دوسری طرف خارجی دنیا میں ہر قسم کے اسباب وافر مقدار میں موجود ہیں۔ کوئی آدمی دونوں میں سے جس مقصد کو اپنا نشانہ بنائے، تمام اسباب فوراً اس کا ساتھ دینے لگتے ہیں۔ اسباب خود سے کبھی ایسا نہیں کہتے کہ ہم کو فلاں مقصد کے لئے استعمال کرو اور فلاں مقصد کے لئے استعمال نہ کرو۔ یہ صورت حال آدمی کو اکثر غلط فہمی میں ڈال دیتی ہے۔ حالات کی مساعدت کو دیکھ کر وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں وہ ٹھیک کر رہا ہوں۔ مگر یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہو رہا ہے۔ آدمی کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ صرف اس لئے اپنے آپ کو درست سمجھ لے کہ وہ بظاہر ترقی اور کامیابی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس کے بجائے ہر آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ اصول حق کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page