مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 111
By Maulana Wahiduddin Khan
معیار بنائے اور اس کی روشنی میں اپنے صحیح اور غلط ہونے کا فیصلہ کرے۔ 17-069 سمع، بصره فواد قرآن میں مختلف احکام دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: اور ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کی تم کو خبر نہیں۔ بے شک کان اور آنکھ اور دل سب کی آدمی سے پوچھ ہوگی۔ (بنی اسرائیل ۳۶) انسان کو تین نہایت خاص صلاحیتیں دی گئی ہیں ــــ سمع اور بصر اور فواد یعنی سننا اور دیکھنا اور سوچنا۔ یہ تینوں صلاحیتیں ایک اعتبار سے نعمت ہیں اور دوسرے اعتبار سے وہ امتحان کا پرچہ ہیں۔ موجودہ دنیا میں چیزیں اس طرح ملی جلی حالت میں ہیں کہ صحیح رائے قائم کرنا ہمیشہ بے حد نازک کام ہوتا ہے۔ آدمی کسی کے بارہ میں کوئی ایک بات سنتا ہے۔ حالاں کہ اس کے سوا بھی اس کی بہت سی باتیں ہوتی ہیں۔ آدمی کسی معاملہ کے ایک جزء کو دیکھتا ہے، جب کہ اس کے بہت سے اجزاء اس کے سامنے نہیں ہوتے۔ اسی طرح آدمی کے دماغ میں ایک بات آتی ہے، مگر وہ صرف ادھوری بات ہوتی ہے نہ کہ پوری بات۔ ایسی حالت میں آدمی کے اوپر لازم ہے کہ جب بھی وہ کسی کے بارے میں کوئی رائے بنائے تو پوری تحقیق کے بعد بنائے ۔ اس کو چاہئے کہ وہ پوری بات سنے۔ وہ معاملے کے ہر پہلو کو دیکھے۔ وہ کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے اس کے بارے میں تحقیق کا حق ادا کرے۔ ان شرطوں کی تکمیل کے بغیر جو آدمی محض جزئی یا سرسری علم کی بنا پر ایک رائے قائم کرلے، اس کے لئے اندیشہ ہے کہ وہ خدا کی پکڑ کی زد میں آجائے اور اس کو اپنے کان اور آنکھ اور اپنے ذہن کے غلط استعمال کی سخت سزا بھگتنی پڑے۔ 17-070 دنیا اور آخرت انسان کو دی جانے والی خصوصی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader