مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 112
By Maulana Wahiduddin Khan
جو شخص اس دنیا میں اندھا رہا وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا اور وہ بہت دور پڑا ہوا راستہ ہے۔ (بنی اسرائیل ۷۲) موجودہ دنیا میں خدائی حقیقتوں کو غیب کی حالت میں رکھا گیا ہے۔ آخرت میں یہ تمام خدائی حقیقتیں کھلے طور پر سامنے آجائیں گی۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی اعلیٰ صلاحیتیں دے کر دنیا میں بسایا ہے۔ اب انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ اپنی ان صلاحیتوں کو بھر پور طور پر استعمال کرے اور غیبی حقیقتوں کو دریافت کرکے انھیں اپنی زندگی کا سرمایہ بنائے۔ یہی آدمی کی کامیابی ہے۔ جو آدمی آنکھیں رکھتے ہوئے دنیا میں خدا کے جلووں کو نہ دیکھ سکے، وہ گویا اندھا ہے۔ ایسے لوگ جس طرح دنیا میں اندھے رہے، اسی طرح وہ آخرت میں بھی اندھے رہیں گے۔ وہ آخرت کی نعمتوں میں اپنا حصہ پانے سے ابدی طور پر محروم رہ جائیں گے۔ 17-071 ذہنی سانچہ انسان کی حالت بتاتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے: کہو کہ ہر ایک اپنے شاکلہ پر عمل کر رہا ہے۔ اب تمھارار ب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون زیادہ ٹھیک راستہ پر ہے۔ (بنی اسرائیل ۸۴) شاکلہ سے مراد ذہنی سانچہ ہے۔ ہر آدمی کے حالات اور رحجانات کے تحت دھیرے دھیرے اس کا ایک خاص ذہنی سانچہ بن جاتا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو نفسیات میں کنڈیشننگ کہا جاتا ہے۔ ہر آدمی پیدائشی طور پر صحیح فطری ذہن لے کر پیدا ہوتا ہے اس کے بعد ہر آدمی دھیرے دھیرے کنڈیشننگ تھنکنگ کا کیس بن جاتا ہے۔ وہ اسی کے زیر اثر سوچتا ہے اور اسی کے مطابق اس کا نقطہ نظر بنتا ہے۔ مگر صحیح نقطہ نظر وہ ہے جو علم الہیٰ کے مطابق صحیح ہو اور غلط وہ ہے جو علم الہیٰ کے مطابق غلط ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہے۔ آدمی کو یہ کرنا ہے کہ اس کے شاکلہ نے اس کا جو ذہنی سانچہ بنادیا ہے۔ وہ اس سانچہ کو توڑے ۔ تاکہ وہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھ سکے جیسی کہ وہ ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader