مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 113
By Maulana Wahiduddin Khan
بالفاظ دیگر وہ چیزوں کو ربانی نگاہ سے دیکھنے لگے۔ جو لوگ اپنے ذہنی خول میں گم ہوں، وہ بھٹکے ہوئے لوگ ہیں۔ اور جو لوگ اپنے ذہنی خول سے نکل کر خدائی نقطۂ نظر کو پالیں وہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت پائی۔ 17-072 علم قلیل قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اور وہ تم سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں۔ کہو کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے۔ اور تم کو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ (بنی اسرائیل ۸۵) اس آیت میں روح سے مراد وحی الہی ہے۔ جو لوگ وحی کی حقیقت جاننے کے لئے سوالات کر رہے تھے، ان کو براہ راست طور پر سوال کا جواب دینے کے بجائے یہ کہا گیا کہ انسان کو صرف علم قلیل (محدود علم) دیا گیا ہے، اس کو علم کثیر (لامحدود علم) نہیں دیا گیا۔ ایسی حالت میں حقیقت پسندی یہ ہے کہ اپنی محدودیت کا اعتراف کرتے ہوئے اجمالی علم پر قناعت کی جائے۔ یہ تصور علم کی کلید ہے۔ موجودہ دنیا میں معرفت یا گہری حقیقت تک وہی انسان پہنچے گا جو اس حقیقت کا اعتراف کرے اور غور و فکر کے عمل کو ممکن دائرہ کے اندر جاری کرے اور اس دائرہ کو توڑ کر نا ممکن دائرہ میں داخل نہ ہو جائے۔ 17-073 دنیا کی زینت قرآن میں ارشاد ہوا ہے: جو کچھ زمین پر ہے اس کو ہم نے زمین کی رونق بنایا ہے تا کہ ہم لوگوں کو جانچیں کہ ان میں کون اچھا عمل کرنے والا ہے اور ہم زمین کی تمام چیزوں کو ایک صاف میدان بنا دیں گے۔ (الکہف ۷۔۸) زمین کی سطح پر ہر سال یہ منظر دکھائی دیتا ہے کہ یہاں بارش ہوتی ہے۔ اس کے بعد یہاں مختلف قسم کا سبزہ اور پھول اگتا ہے۔ زمین نہایت خوش نماد کھائی دینے لگتی ہے۔ اس کے بعد موسم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader