Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 114

By Maulana Wahiduddin Khan

بدلتا ہے گرم ہوائیں چلنے لگتی ہیں۔ اس کے بعد سارا منظر بدل جاتا ہے۔ جہاں خوش نما سبزہ تھا وہاں خشک مٹی نظر آنے لگتی ہے۔ تمثیل کے روپ میں یہی دنیا کی حقیقت ہے۔ دنیا کی چیزیں انسان کو بظاہر نہایت خوش نما دکھائی دیتی ہیں۔ وہ ان کی رنگینیوں میں گم ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ رنگینیاں ہمیشہ باقی رہنے والی نہیں۔ یہ رنگینیاں حقیقی نہیں ہیں بلکہ صرف آزمائش کے لئے ہیں۔ کامیاب انسان وہ ہے جو بہار اور خزاں کی تمثیل میں دنیا اور آخرت کا نقشہ دیکھ لے۔ وہ دنیا کی وقتی رنگینیوں میں گم ہونے کے بجائے آخرت کی حقیقی دنیا کو اپنی تو جہات کا مرکز بنائے۔ 18-074 مال و اولاد قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اور ان کو دنیا کی زندگی کی مثال سناؤ۔ جیسے کہ پانی جس کو ہم نے آسمان سے اتارا۔ پھر اس سے زمین کی نباتات خوب گھنی ہو گئیں پھر وہ ریزہ ریزہ ہو گئیں جس کو ہوائیں اڑاتی پھرتی ہیں۔ اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ مال اور اولاد دنیوی زندگی کی رونق ہیں اور باقی رہنے والی نیکیاں تمہارے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بہتر ہیں۔ (الكهف ۴۵۔۴۶) موجودہ دنیا بعد کو آنے والی آخرت کی تمثیل ہے۔ پانی پا کر زمین جب سر سبز ہو جاتی ہے تو بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ اسی طرح رہے گی، مگر اس کے بعد موسم بدلتا ہے اور سارا سبزہ سوکھ کر ختم ہو جاتا ہے۔ یہی حال دنیا کی رونقوں کا ہے۔ مال و دولت میں انسان کے لئے بڑی کشش ہے۔ اسی طرح اپنی اولاد سے اس کو غیر معمولی دلچسپی ہوتی ہے۔ مگر یہ تمام رونقیں انتہائی عارضی ہیں۔ قیامت بہت جلد ان کو اس طرح ختم کر دے گی کہ ایسا معلوم ہو گا جیسے ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ دنیا کی رونقیں ہمیشہ باقی نہیں رہتیں مگر یہاں ایک اور چیز ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page