Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 115

By Maulana Wahiduddin Khan

اور وہ انسان کے نیک اعمال ہیں۔ جس طرح زمین میں بیج ڈالنے سے باغ اگتا ہے اسی طرح اللہ کی یاد اور اللہ کی فرماں برداری سے بھی ایک باغ اگتا ہے۔ اس باغ پر کبھی خزاں نہیں آتی۔ مگر دنیوی باغ کے برعکس یہ دوسرا باغ آخرت میں اگتا ہے اور وہی ہیں وہ اپنے اگانے والے کو ملے گا۔ 19-075 پیغمبروں کی امت قرآن میں مختلف پیغمبروں اور ان پر ایمان لانے والوں کا ذکر ہے۔ پھر اس سلسلے میں ارشاد ہوا ہے : یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے پیغمبروں میں سے اپنا فضل فرمایا۔ آدم کی اولاد میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا۔ اور ابراہیم اور اسرائیل کی نسل سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے ہدایت بخشی اور ان کو مقبول بتایا۔ جب ان کو خدائے رحمان کی آیتیں سنائی جاتیں تو وہ سجدہ کرتے ہوئے اور روتے ہوئے گر پڑتے۔ پھر ان کے بعد ایسے ناخلف جانشین ہوئے، جنھوں نے نماز کو کھو دیا اور خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے، پس عنقریب وہ اپنی خرابی کو دیکھیں گے، البتہ جس نے توبہ کی اور ایمان لے آیا اور نیک کام کیا تو یہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرا بھی حق تلفی نہیں کی جائے گی۔ (مریم ۵۸- ۶۰) پیغمبر پر ایمان لانے والوں کی پہلی نسل زندہ ایمان کی حامل ہوتی ہے۔ اس پہلی نسل کے افراد کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ خدا کے کلام کو سن کر تڑپ اٹھتے ہیں۔ خدا کا کلام ان کے شعور کو آخری حد تک جگادیتا ہے۔ خدا سے ان کا تعلق اتنا بڑھا ہوا ہوتا ہے کہ وہ اس کی یاد میں روتے ہیں۔ ان کا سجدہ ان کے لئے خدا سے قربت کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ یہی لوگ حقیقتوں میں خدا کا انعام پانے والے لوگ ہیں۔ اس کے بعد ان کی بعد کی نسلوں کا حال بالکل مختلف ہو جاتا ہے۔ اب ان کا ایمان زندہ ایمان نہیں ہوتا بلکہ صرف رسمی ایمان ہوتا ہے۔ ان کی عبادتوں میں روح (اسپرٹ) باقی نہیں رہتی۔ اب ان کارہنما صرف ان کی خواہشیں ہوتی ہیں جس کے پیچھے وہ اپنی پوری زندگی ڈال دیتے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page