مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 116
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں۔ خدا کے نزدیک ان کا انجام گمراہوں جیسا ہے خواہ وہ بطور خود اپنے آپ کو ہدایت یاب سمجھتے ہوں۔ اس سے مستثنیٰ صرف وہ لوگ ہیں جو خدا کی طرف لوٹیں اور زندہ ایمان کا ثبوت دے کر دوبارہ پہلی نسل کی مانند ہو جائیں۔ 20-076 دعوت پر نصرت قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جب اللہ نے حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی تو اس کے بعد انھوں نے کہا کہ ــــ اے میرے رب، میرے سینہ کو میرے لئے کھول دے۔ اور میرے کام کو میرے لئے آسان کر دے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ تاکہ لوگ میری بات سمجھیں۔ اور میرے خاندان سے میرے لئے ایک مددگار بنا دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔ اس کے ذریعہ سے میری کمر کو مضبوط کر دے۔ اور اس کو میرے کام میں شریک کر دے تاکہ ہم دونوں کثرت سے تیری پاکی بیان کریں۔ اور کثرت سے تیرا چرچا کریں۔ بے شک تو ہم کو دیکھ رہا ہے۔ فرمایا کہ دے دیا گیا تم کو اے موسیٰ تمہاراسوال۔ (طٰہٰ ۲۵۔۳۶) داعی کے لئے سینہ کا کھلنا یہ ہے کہ حسب موقع اس کے اندر مؤثر مضامین کا ورود ہو۔ معاملہ کا آسان ہونا یہ ہے کہ مخالفین کبھی دعوت کی راہ بند کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ زبان کی گرہ کھلنا یہ ہے کہ بڑے سے بڑے مجمع میں بلا جھجھک دعوت پیش کرنے کا ملکہ پیدا ہو جائے۔ حضرت موسیٰ نے جب یہ درخواست کی تو اللہ کی طرف سے یہ جواب آیا: قال قد اوتیت سؤلك يموستى (اے موسیٰ، تم کو تمہارا سوال دے دیا گیا) قرآن میں یہ واقعہ ماضی کی تاریخ کے طور پر نہیں آیا ہے اور نہ اس کا تعلق صرف ایک خاص شخصیت سے ہے۔ وہ ایک نصیحت ہے اور اس میں ہر سچے داعی کے لئے امید کا ایک پیغام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آج کا ایک داعی اگر خدا سے ان چیزوں کو مانگے تو آج بھی خدا کی طرف سے آواز آئے گی کہ اے میرے بندے تجھ کو وہ چیز دے دی گئی جس کا تو نے سوال کیا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader