Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 117

By Maulana Wahiduddin Khan

دعوتی اسلوب قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو مصر کے بادشاہ فرعون کی طرف بھیجا تو ان سے فرمایا: تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ کہ وہ سرکش ہو گیا ہے۔ پس اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، شاید وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔ (طہٰ ۴۳۔ ۴۴) فرعون اپنے زمانہ کا ایک سرکش بادشاہ تھا اس کے باوجود جب اللہ تعالیٰ نے وقت کے نبی کو اپنے پیغام کے ساتھ اس کی طرف بھیجا تو انھیں یہ ہدایت دی کہ تم فرعون سے نرم انداز میں اپنی بات کہنا۔ اس سے معلوم ہوا کہ دعوت میں نرم انداز مطلق طور پر مطلوب ہے۔ مدعو کی طرف سے کوئی بھی سختی یا سرکشی داعی کو یہ حق نہیں دیتی کہ وہ اپنی دعوت میں نرمی اور شفقت کا انداز کھودے۔ دوسری بات یہ کہ مدعو کا اثر لینا یا دعوت کو قبول کرنا اس پر منحصر ہے کہ اس سے نرم اور حکیمانہ انداز میں بات کہی گئی ہو۔ دعوتی کلام کی یہ شرط داعی کی ذمہ داری کو بتاتی ہے۔ گویا کہ داعی اگر نرم انداز اختیار نہ کرے تو اس کی دعوتی ذمہ داری ختم نہ ہوگی۔ ایسا داعی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے مدعو تک اپنا پیغام پہنچادیا۔ اب یہ اس کا معاملہ ہے کہ وہ مانے یا نہ مانے۔ قرآن میں بصیرت قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: پس برتر ہے اللہ، بادشاہ حقیقی، اور تم قرآن کے لینے میں جلدی نہ کرو جب تک اس کی وحی تکمیل کو نہ پہنچ جائے۔ اور کہو کہ اے میرے رب میرا علم زیادہ کر دے۔ (طہٰ ۱۱۴) اس آیت میں رب زدنی علما کی تشریح رب زدنی فہمما سے کی گئی ہے (تفسیر القرطبی) یعنی اے میرے رب میری سمجھ کو زیادہ کردے۔ اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ جب حضرت جبرئیل قرآن کا کوئی حصہ لے کر رسول اللہ کے پاس آتے اور اس کو پڑھتے تو رسول اللہ اس کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page