Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 118

By Maulana Wahiduddin Khan

لینے میں جلدی کرتے ، اس اندیشہ کی بنا پر کہ کہیں اس کو بھول نہ جائیں ۔ اس وقت آپ کو یہ تلقین کی گئی کہ الفاظِ قرآن کی حفاظت کا ذمہ تو خود اللہ نے لے رکھا ہے اس لئے وہ کسی حال میں ضائع ہونے والا نہیں ۔ تم کو الفاظ کے معانی پر زیادہ توجہ دینا چاہئے اور متنِ قرآن کے فہم میں اضافہ کی دعا کرتے رہنا چاہئے ۔ اس ہدایت کا تعلق صرف پیغمبر سے نہیں ہے بلکہ آپ کی امت سے بھی ہے۔ پوری امت کو یہ جاننا چاہئے کہ الفاظِ قرآن یا متنِ قرآن کی حفاظت تو بہر حال ہو کر رہے گی۔ کیوں کہ اس کا ذمہ اللہ نے خود لے لیا ہے۔ اہلِ ایمان کو سب سے زیادہ توجہ جس چیز پر دینا ہے وہ قرآن کے معانی میں فہم و بصیرت حاصل کرنا ہے اور اس میں مسلسل اضافہ کرتے رہنا ہے۔ کیوں کہ قرآن کا فہم یا اس میں گہری بصیرت کسی آدمی کی صرف اپنی کوشش سے ملے گی۔ وہ اپنے آپ کسی کو حاصل ہونے والی نہیں۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امت میں تحفیظ القرآن کے مدارس سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ ان کے درمیان تفہیم القرآن کے ادارے قائم کئے جائیں ۔ قرآن کا حفظ بھی اگر چہ ضروری ہے مگر اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ لوگوں کو قرآن کا فہم حاصل ہو، وہ قرآن کے معانی میں زیادہ سے زیادہ بصیرت اور تفقہ کے مالک بنیں۔ قرآن میں دوسرے مقام پر اسی طرح کے پس منظر میں کہا گیا ہے کہ : ان علینا جمعہ (القیامہ ۱۷) اور یہاں فرمایا: قل رب زدنی علما (طٰہ ۱۱۲) دونوں آیتوں کو ملایا جائے تو اس کا مطلب بنتا ہے کہ قرآن کو جمع کرنا اور اس کو محفوظ رکھنا اللہ کی ذمہ داری ہے، اور قرآن میں فہم وبصیرت حاصل کرنا اور اس میں مسلسل اضافہ کرتے رہنا انسان کی ذمہ داری۔ 20-079 رزق رب قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اور ان چیزوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھو جن کو ہم نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page