رزق رب
Urdu book, p. 119
By Maulana Wahiduddin Khan
ان کے کچھ گروہوں کو ان کی آزمائش کے لئے انھیں دے رکھا ہے۔ اور تمہارے رب کا رزق زیادہ بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے (طٰہٰ ۱۳۱) اس آیت کا خطاب بظاہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک عمومی ہدایت ہے اور اس کا تعلق تمام اہلِ ایمان سے ہے۔ اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے اس میں تمام اہلِ ایمان کے لئے ایک اہم رہنمائی ہے، خواہ وہ کسی بھی دور یا کسی بھی نسل سے تعلق رکھتے ہوں۔ ایک آدمی جب پوری سنجیدگی کے ساتھ ایمان اور دعوت کی زندگی اختیار کرتا ہے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس کی زندگی مشکلات کی اور تنگی کی زندگی بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ ایمان اور دعوت سے بے پروا ہو کر اپنی زندگی بنائیں وہ عام طور پر خوش حال اور مطمئن نظر آتے ہیں۔ دونوں گروہوں کے درمیان یہ فرق دراصل ان کے طرز زندگی کی قیمت ہے۔ مؤمن اور داعی ایک با اصول انسان ہوتا ہے۔ وہ ایک با اصول زندگی گزارتا ہے۔ اس کے مقابلے میں غیر مومن اور غیر داعی کی زندگی ایک بے اصول زندگی ہوتی ہے۔ یہی فرق دونوں کی زندگی میں فرق پیدا کر دیتا ہے۔ ایک کو اصول پسندی کی قیمت ملتی ہے اور دوسرے کو بے اصولی کا طریقہ اختیار کرنے کی قیمت۔ مومن اور داعی کو اگر دنیا کی ظاہری رد نفیس نہ ملی ہوں تو اس کو اس پر غم نہیں کرنا چاہئے۔ اس لئے کہ اس کو عین اسی وقت اس سے بھی زیادہ بڑی ایک چیز ملی ہوئی ہوتی ہے، اور وہ قرآن کے مطابق، رزق رب (طٰہٰ ۱۳۱) ہے۔ رزق رب سے کیا مراد ہے، اس سے مراد وہ ربانی احساسات ہیں جو اللہ کی توفیق سے ایسے آدمی کو ملتے ہیں۔ مشکلات و مسائل اس کے اندر عجز پیدا کر کے اس کو اللہ سے جوڑتے ہیں۔ مادی راحتوں کی کمی اس کے لئے جنت کی یاد کا سبب بن جاتی ہے۔ لوگوں کی مخالفتیں اس کے اندر رجوع الی اللہ کا جذبہ ابھارتی ہیں۔ زندگی کے تلخ تجربات اس کی روحانیت کو مسلسل بیدار کرتے رہتے ہیں۔ دنیوی ساز و سامان کی کمی اس کو زیادہ سے زیادہ خدا سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader