Urdu book · مطالعہ قرآن

تفسیر قرآن

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

تفسیر قرآن قرآن میں مختلف انداز سے یہ بات کہی گئی ہے کہ قرآن کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اس پر غور کریں اور اس سے ہدایت حاصل کریں: کتاب انزلنه اليك مبارك ليدبروا آيته وليتذكر اولوالالباب (ص ۲۹) یعنی یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ قرآن کو پڑھنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے سادہ طور پر اس کی قرآت کرنا۔ اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس کی آیتوں میں غور وفکر کر کے اس کو پڑھا جائے۔ قرآن کی قرآت سے ایک شخص کو اس کے سادہ معانی معلوم ہو جاتے ہیں۔ اور اس طرح قرآن کو سادہ طور پر سمجھنا بھی بلاشبہ مفید ہے۔ لیکن قرآن کے گہرے معانی صرف اس وقت سمجھ میں آسکتے ہیں جب کہ اس کی آیتوں پر غور و فکر کیا جائے۔ ایک صحابی کے متعلق روایت میں آیا ہے کہ انہوں نے سورہ البقرہ کا مطالعہ غور وفکر کے ساتھ کیا تو اس میں انہیں تین سال کا وقت لگ گیا۔ قرآن کی سادہ قرآت کیا ہے، اس کو سمجھنا کوئی مشکل کام نہیں۔ ہر آدمی جو عربی زبان جانتا ہے وہ سادہ قرآت کے ذریعہ قرآن کے معانی کو سمجھ سکتا ہے اور جو شخص عربی زبان نہیں جانتا وہ اپنی معلوم زبان میں قرآن کا ترجمہ پڑھ کر اس کو سمجھ سکتا ہے۔ اس اعتبار سے قرآن ایک آسان کتاب ہے (القمر (۱۷) جس آدمی کے اندر نصیحت لینے کا ذہن ہو اور وہ نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا نہ ہو تو قرآن کی سادہ قرآت یا اس کا ترجمہ پڑھنا بھی اس کے لئے مفید ہو سکتا ہے۔ وہ سادہ قرآت کے ذریعہ بھی ایسی تذکیری باتیں پالے گا جو اس کی زندگی کو سدھارنے والی ہوں اور اس کے لئے اسلامی زندگی گزارنے میں مددگار بن جائیں۔ لیکن قرآن میں تدبر کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ سادہ قرآت اور تدبر کے ساتھ قرآت کے فرق کو ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: "أنزل القرآن على سبعة احرف، لكل آية منها ظهر وبطن، ولكل حد مطلع (مشکوة المصابیح ۸۰/۱) قرآن سات حرفوں پر اتارا گیا۔ اس کی ہر آیت کا ایک ظاہر ہے اور ایک اس کا باطن ہے۔ اور ہر حد کا ایک مطلع ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page