مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 120
By Maulana Wahiduddin Khan
قریب کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ 21-080 کائنات کی تخلیق قرآن میں ارشاد ہوا ہے: کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں بند تھے پھر ہم نے ان کو کھول دیا۔ اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز کو بنایا۔ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے (الانبیاء ۳۰) رتق کے معنی کسی چیز کا منہ بند (منضم الاجزاء) ہونا ہے اور فتق کا مطلب اس کا کھل جانا ہے۔ غالباً اس سے زمین و آسمان کی وہ ابتدائی صورت مراد ہے جس کو موجودہ زمانہ میں بگ بینگ نظریہ کہا جاتا ہے۔ جدید سائنسی تحقیق کے مطابق زمین و آسمان کا تمام مادہ ابتداء ایک بہت بڑے گولے (سپرایٹم) کی صورت میں تھا۔ معلوم طبیعیاتی قوانین کے مطابق اس وقت اس کے تمام اجزاء اپنے اندرونی مرکز کی طرف کھنچ رہے تھے۔ اور انتہائی شدت کے ساتھ باہم جڑے ہوئے تھے۔ اس کے بعد اس گولے کے اندر ایک دھماکہ ہوا اور اس کے اجزاء اچانک بیرونی سمت میں پھیلنا شروع ہوئے۔ اس طرح بالآخر وہ وسیع کائنات بنی جو آج ہمارے سامنے موجود ہے۔ ابتدائی مادی گولے (سپر ایٹم) میں یہ غیر معمولی واقعہ بیرونی مداخلت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اس طرح آغازِ کائنات کی یہ تاریخ واضح طور پر ایک ایسی ہستی کو ثابت کرتی ہے جو کائنات کے باہر اپنا مستقل وجود رکھتی ہے اور جو اپنی ذاتی قوت سے کائنات کے اوپر اثر انداز ہوتی ہے۔ رتق اور فتق کے اس عمل کے دوران ایک اور انتہائی غیر معمولی واقعہ ہوا، وہ یہ کہ وسیع کائنات میں زمین جیسا ایک استثنائی کرہ وجود میں آیا اور پھر اس کرہ کے اوپر انتہائی استثنائی طور پر پانی جیسا سیال مادہ بہت بڑی مقدار میں پھیل گیا جو زندگی کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ ہماری دنیا میں ہر جاندار چیز سب سے زیادہ جس چیز سے مرکب ہوتی ہے وہ پانی ہے، پانی نہ ہو تو زندگی کا خاتمہ ہو جائے۔ یہ پانی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader