Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 121

By Maulana Wahiduddin Khan

ہماری زمین کے سوا کہیں اور موجود نہیں۔ وسیع کائنات میں استثنائی طور پر صرف ایک مقام پر پائی جاتا یا نا واضح طور پر خصوصی تخلیق“ کا پتہ دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ کائنات کا ایک خالق ہے جس نے اپنے باشعور منصوبہ کے تحت اسے ایک وقت خاص میں پیدا کیا۔ 22-081 ہدایت پانے والے قرآن میں ارشاد ہوا ہے: بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیا، اللہ ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ ان کو وہاں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے۔ اور وہاں ان کی پوشاک ریشم ہوگی۔ اور ان کو پاکیزہ قول کی ہدایت بخشی گئی تھی۔ اور ان کو خدائے حمید کا راستہ دکھایا گیا تھا۔ (الحج ۲۳-۲۴) حق کا تعارف کسی آدمی کو اصلا الفاظ کے ذریعہ ہوتا ہے۔ الفاظ میں مختلف تشریح اور تعبیر کی اتنی زیادہ گنجائش ہے کہ صرف وہی آدمی اس سے رہنمائی لے سکتا ہے جو اس معاملہ میں آخری حد تک سنجیدہ ہو۔ اسی لئے قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا کی کتاب اگرچہ حق ہے مگر وہ انھیں لوگوں کے لئے ہدایت بنتی ہے جو کھلے ذہن کے ساتھ اس سے ہدایت لینے کے حریص ہوں۔ مزید یہ کہ اس دنیا میں ہر طرف پر فریب الفاظ کا جال بچھا ہوا ہے۔ یہاں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ حق سے پھرے ہوئے لوگ غلبہ حاصل کر لیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ایمان کی صداقت کو پہچاننا بلا شبہ سخت مشکل کام ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ مشکل کام یہ ہے کہ ایمان کے اس راستہ پر عملاً اپنے آپ کو ڈال دیا جائے۔ یہ وہ خوش نصیب لوگ ہیں جن کو اقوال کے پر شور ہنگاموں میں قول طیب کو پانے کی توفیق ملی۔ جنھوں نے راستوں کے ہجوم میں صراط حمید کو دیکھا اور اس کو پہچان لیا۔ جو لوگ دنیا میں اس عظیم لیاقت کا ثبوت دیں وہ انسانیت کے سب سے زیادہ قیمتی لوگ ہیں یہی لوگ اس قابل ہیں کہ انھیں جنت کے ابدی باغوں میں بسایا جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page