مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 122
By Maulana Wahiduddin Khan
قربانی کی حقیقت قرآن میں قربانی کے احکام بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ : اور اللہ کو قربانی کے ان جانوروں کا نہ گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون بلکہ اللہ کو صرف تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اس طرح اللہ نے ان کو تمہارے لئے مسخر کر دیا ہے، تاکہ تم اللہ کی بخشی ہوئی ہدایات پر اس کی بڑائی بیان کرو اور نیکی کرنے والوں کو خوش خبری دے دو۔ (الحج ۳۷) قربانی کا فعل جانور پر کیا جاتا ہے مگر آیت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کو جو چیز مطلوب ہے وہ حقیقتاً جانور کی قربانی نہیں ہے بلکہ خود انسان کی قربانی ہے۔ جانور کو ذبح کرنے والا آدمی دراصل عمل کی زبان میں یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ میں نے اپنے آپ کو تیرے مشن کے لئے قربانی کی حد تک وقف کر دیا۔ تو میرے اس ارادہ کو قبول فرما۔ قربانی کا طریقہ اس لئے مقرر نہیں کیا گیا ہے کہ خدا کو گوشت اور خون کی ضرورت ہے۔ قربانی تو صرف ایک علامتی فعل ہے۔ جانور کی قربانی اس انسان کی ایک ظاہری تصویر ہے جو اپنے آپ کو اللہ کے لئے ذبح کر چکا ہے۔ یہ دراصل خود اپنا ذبیحہ ہے جو جانور کے ذبیحہ کی صورت میں ممثل ہوتا ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کے لئے جانور کی قربانی خود اپنی قربانی کے ہم معنیٰ بن جائے۔ دفاعی جنگ قرآن میں اہل ایمان کو جنگ کی اجازت دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے : (لڑنے کی اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن سے لڑائی کی جا رہی ہے اس وجہ سے کہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور بے شک اللہ ان کی مدد پر قادر ہے۔ وہ لوگ جو اپنے گھروں سے بے وجہ نکالے گئے۔ صرف اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے۔ اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ دفع نہ کرتا رہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader