مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
تو خانقاہیں اور گرجا اور عبادت خانے اور مسجدیں جن میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے ڈھا دیئے جاتے ہیں۔ اور اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اللہ کی مدد کرے۔ بے شک اللہ زبردست ہے، زور والا ہے ۔(الحج ۳۹۔۴۰) قرآن کی یہ آیت اور اس طرح کی دوسری آیتیں (مثلاً البقرہ ۱۹۰) اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اسلام میں صرف اپنے دفاع کے لئے جنگ کی اجازت ہے، اسلام میں جارحانہ جنگ کی بالکل اجازت نہیں۔ مزید یہ کہ کوئی قوم اگر جارحیت کرے تب بھی فوراً اس سے جنگ نہیں چھیڑ دی جائے گی۔ بلکہ ہر ممکن کوشش کے ذریعہ یہ تدبیر کی جائے گی کہ جنگ ٹل جائے اور لڑائی کی نوبت نہ آئے۔ تاہم اگر فریق ثانی آخری حد تک جنگ پر تل جائے تو آخری چارہ کار کے طور پر اس سے جنگ کی جائے گی۔ مزید یہ کہ دفاعی جنگ بھی صرف فریق ثانی کی فوج سے لڑی جائے گی۔ عام شہریوں سے ہرگز کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح یہ جنگ صرف اس وقت تک کی جائے گی جب تک وہ بالکل ضروری ہے، جنگ کو انتقام تک لے جانا اسلام میں جائز نہیں۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب، فکر اسلامی اور مطالعہ حدیث) 23-084 فلاح پانے والے قرآن میں ارشاد ہوا ہے : یقیناً فلاح پائی ایمان والوں نے جو اپنی نماز میں جھکنے والے ہیں اور جو لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں۔ اور جو زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں اور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، سوا اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کی ملک یمین میں ہوں کہ ان پر وہ قابل ملامت نہیں۔ البتہ جو اس کے علاوہ چاہیں تو وہی زیادتی کرنے والے ہیں۔ اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا خیال رکھنے والے ہیں۔ اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہی لوگ وارث ہونے والے ہیں جو فردوس کی وراثت پائیں گے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (المومنون ۱-۱۱)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader