مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 124
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کی اس دنیا میں کامیابی صرف اس شخص کے لئے ہے جو صاحب ایمان ہو۔ جو کسی اور والا نہ ہو کر ایک اللہ والا بن جائے۔ جس کی زندگی اندر سے باہر تک ایمان میں ڈھل گئی ہو۔ جب کسی شخص کو ایمان ملتا ہے تو یہ سادہ سی بات نہیں ہوتی۔ یہ اس کی زندگی میں ایک انقلاب آنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اب وہ اللہ کی عبادت کرنے والا اور اس کے آگے جھکنے والا بن جاتا ہے۔ اس کی سنجیدگی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ بے فائدہ مشاغل میں وقت ضائع کرنا اس کو ہلاکت معلوم ہونے لگتا ہے۔ وہ اپنی کمائی کا ایک حصہ خدا کے نام پر نکالتا ہے۔ اور اس سے ضرورت مندوں کی مدد کرتا ہے۔ وہ اپنی شہوانی خواہشات کو کنٹرول میں رکھنے والا بن جاتا ہے۔ اور اس کو انھیں حدود کے اندر استعمال کرتا ہے جو خدا نے اس کے لئے مقرر کر دی ہیں۔ وہ دنیا میں ایک ذمہ دار آدمی کی طرح زندگی گزارتا ہے۔ دوسرے کی امانت میں وہ کبھی خیانت نہیں کرتا۔ کسی سے جب وہ کوئی عہد کر لیتا ہے تو وہ کبھی اس کے خلاف نہیں جاتا۔ جن لوگوں کے اندر یہ خصوصیات ہوں وہ اللہ کے مطلوب بندے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے خدا نے جنت الفردوس کی معیاری دنیا تیار کر رکھی ہے۔ موت کے بعد وہ اس کی فضاؤں میں داخل کر دئے جائیں گے تاکہ ابدی طور پر وہ اس کے اندر عیش کرتے رہیں۔ 23-085 خدائی رحمت میں حصہ پانے والے قرآن میں ارشاد ہوا ہے: کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان کو مال اور اولاد دے جا رہے ہیں تو ہم ان کو فائدہ پہنچانے میں سرگرم ہیں بلکہ وہ بات نہیں سمجھتے۔ بے شک جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں۔ اور جو لوگ اپنے رب کی آیتوں پر یقین رکھتے ہیں۔ اور جو لوگ اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے۔ اور جو لوگ دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل کانپتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہ لوگ بھلائیوں کی راہ میں سبقت کر رہے ہیں اور وہ ان پر پہنچنے والے ہیں سب سے آگے ۔ (المؤمنون ۵۵-۶۱)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader