Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 125

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک آدمی کو دنیا کی ترقی اور مادی ساز و سامان مل رہا ہو تو وہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ ایک کامیاب انسان ہے اور یہ خدا کی رحمتیں ہیں جو اس کے اوپر نازل ہو رہی ہیں۔ مگر مادی ترقیاں کسی کے لئے اس بات کی پہچان نہیں ہے کہ وہ خدا کا محبوب بندہ ہے اور خدا اس پر اپنی نعمتوں کی بارش کر رہا ہے۔ مادی ساز و سامان اس دنیا میں امتحان کے لئے ہوتا ہے نہ کہ انعام کے لئے۔ کسی آدمی کو اس دنیا میں خدا کی نعمتیں ملنے کی پہچان یہ ہے کہ دنیا کے واقعات اس کو خدا کی یاد دلانے والے بن جائیں۔ دنیا میں زندگی گزارتے ہوئے اس پر خدا سے خوف اور محبت کے تجربات گزرتے رہیں۔ دنیا اس کے لئے ایسی نشانیوں کا مجموعہ بن جائے جس میں اس کو خدا کے جلوے دکھائی دینے لگیں۔ وہ خدا کو ایک ایسی ہستی کے روپ میں دریافت کرلے جو ہر قسم کے شرک سے بالا تر ہو۔ اس کو دنیا میں جو کچھ ملے اس کو وہ ذاتی لیاقت کا نتیجہ سمجھنے کے بجائے براہ راست خدا کا عطیہ سمجھے۔ اس کا یہ احساس اتنا زیادہ بڑھا ہوا ہو کہ جب وہ اپنی کمائی میں سے کسی ضرورت مند کو کچھ دے تو وہ اس احساس سے کانپ رہا ہو کہ یہ میں اپنا مال نہیں دے رہا ہوں بلکہ میں خدا کی ایک امانت کو خدا کے بندے تک پہنچا رہا ہوں۔ یہ حقیقت ہر لمحہ اس کے ذہن میں تازہ رہتی ہو کہ وہ آخر کار مرنے والا ہے اور خدا کے یہاں حساب کتاب کے لئے حاضر ہونے والا ہے۔ جو لوگ اس احساسات کے ساتھ دنیا میں جئیں وہی خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں۔ ان کی یہ حالت اس بات کی پہچان ہے کہ انھیں صبح و شام خدا کی رحمتیں پہنچ رہی ہیں۔ وہ دنیا میں بھی کامیاب ہیں اور آخرت میں بھی کامیاب۔ 23-086 ایک معاشرتی حکم مدینہ میں حضرت عائشہ صدیقہ پر کچھ لوگوں نے ایک بے ہودہ الزام لگایا اور اس کی خوب اشاعت کی۔ اس الزام تراشی کے تقریباً ایک مہینہ بعد حضرت عائشہ کی برات میں سورہ النور اتری۔ اس میں اللہ نے فرمایا: جن لوگوں نے یہ طوفان برپا کیا وہ تمہارے اندر ہی کی ایک جماعت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page