ایک معاشرتی حکم
Urdu book, p. 126
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ تم اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو بلکہ یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ ان میں سے ہر آدمی کے لئے وہ ہے جتنا اس نے گناہ کمایا۔ اور جس نے اس میں سب سے بڑا حصہ لیا اس کے لئے عذاب ہے۔ جب تم لوگوں نے اس کو سنا تو مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے ایک دوسرے کی بابت نیک گمان کیوں نہ کیا اور کیوں نہ کہا کہ یہ کھلا ہوا بہتان ہے۔ (النور ١١- ١٢) حضرت عائشہ صدیقہ پر جب الزام لگایا تو پھیلانے والوں نے اس کو اتنا زیادہ پھیلایا کہ سارے شہر میں اس کا چرچا ہو گیا۔ حضرت عائشہ خود اس معاملے میں بالکل خاموش تھیں ۔ انھوں نے اس کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا۔ حتیٰ کہ جب ان سے پوچھا گیا تو اس کے بعد بھی انھوں نے اپنی زبان سے یہ کہنے سے انکار کر دیا کہ: واللہ ما قارف۔ اب واحد صورت یہ تھی کہ قرآن میں اس کے بارے میں حکم اترے۔ مگر جب قرآن میں سورہ النور اتری تو اس میں بھی اس قسم کے تردیدی الفاظ نہیں تھے کہ : مار قارف عائشہ۔ اس کے بجائے اس جھوٹ کی تردید کے لئے صرف یہ کہا گیا کہ ”جو لوگ یہ افک (بے ہودہ بات) لائے ہیں۔ دوسری طرف اہل ایمان سے کہا گیا کہ تم نے جب اس بے ہودہ بات کو سنا تو تم نے یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ: سبحنک هذا بهتان عظيم (النور ١٦) اس سے یہ اہم مسئلہ معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کی الزام تراشی کے معاملہ میں مسلم معاشرہ کا طریقہ کیسا ہونا چاہئے۔ ایک طرف اس کو ایسا ہونا چاہئے کہ جب کوئی غیر سنجیدہ آدمی محض قیاس کی بنیاد پر کسی کے خلاف سنگین الزام لگائے تو سننے والوں کو چاہئے کہ وہ سنتے ہی فوراً کہہ دیں کہ یہ ایک بہتان ہے، اور کسی کو حق نہیں کہ وہ حقیقی شرعی ثبوت کے بغیر کسی کے خلاف اس قسم کی سنگین الزام تراشی کرے۔ دوسری طرف جس شخص کے اوپر اس قسم کے بے ہودہ الزام لگایا گیا ہے اس سے یہ تقاضا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ برہنہ الفاظ میں اس کی تردید کرے۔ اس کا یہ کہنا کہ یہ ایک بے ہودہ بات ہے، یہی کافی ہے کہ اس کو اس معاملے میں پوری طرح بری الذمہ مان لیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader