Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 127

By Maulana Wahiduddin Khan

جو لوگ اس قسم کی بے ہودہ باتیں اپنی زبان سے نکالیں اور جو لوگ اس کو سن کر اسے پھیلانا شروع کردیں وہ قرآن کے الفاظ میں اشاعتِ فحاشہ کے مجرم ہیں۔ ان کے لئے خدا نے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب کا اعلان کیا ہے۔ (النور (۱۹) 24-087 زمین میں خلافت قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو زمین میں اقتدار دے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو اقتدار دیا تھا۔ اور ان کے لئے ان کے دین کو جما دے گا جس کو ان کے لئے پسند کیا ہے۔ اور ان کی خوف کی حالت کے بعد اس کو امن سے بدل دے گا۔ وہ صرف میری عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرا شریک نہ بنائیں گے۔ اور جو اس کے بعد انکار کرے تو ایسے ہی لوگ نافرمان ہیں۔ (النور (۵۵ آیت میں اس استخلاف (خلیفہ بنانے) کا لفظ ہے۔ خلیفہ کے معنی عربی زبان میں جانشین یا بعد کو آنے والے کے ہیں۔ استخلاف یا خلیفہ بنانا یہ ہے کہ ایک قوم کے بعد دوسری قوم کو اس کی جگہ غلبہ اور استحکام عطا کیا جائے۔ غلبہ دراصل خدائی امتحان کا ایک پرچہ ہے۔ خدا ایک کے بعد ایک، ہر قوم کو زمین میں غلبہ دیتا ہے۔ اور اس طرح ہر ایک کو جانچتا ہے۔ سچے اہل ایمان کے لئے یہ غلبہ امتحان کے ساتھ ایک انعام بھی ہے۔ اس آیت سے مزید یہ معلوم ہوتا ہے کہ غلبہ اور اقتدار اہل ایمان کے عمل کا نشانہ نہیں۔ وہ ایک خدائی انعام ہے جو ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کرنے کے بعد کی مومنین کی جماعت کو دیا جاتا ہے۔ اس غلبہ کا مقصد یہ ہے کہ اہل ایمان کو زمین میں استحکام عطا کیا جائے۔ ان کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ دشمنان حق کے اندیشوں سے مامون ہو کر رہ سکیں۔ وہ آزادانہ طور پر خدا کی عبادت کریں۔ اور صرف ایک خدا کے بندے بن کر زندگی گزاریں۔ اہل ایمان کے غلبہ کی یہ حالت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page