Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 129

By Maulana Wahiduddin Khan

اس لئے تمام انسان آپس میں بھائی بھائی ہیں، ان میں اگر کوئی فرق ہے تو وہ نسل کی بنیاد پر نہیں ہے بلکہ تقویٰ کی بنیاد پر ہے۔ یہ بھی ایک ایسی تعلیم ہے جو تمام انسانوں سے تعلق رکھتی ہے، وغیرہ۔ اسی طرح قرآن کی تمام تعلیمات عالمی اور آفاقی حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ ماضی سے لے کر مستقبل تک تمام انسانوں کے لئے رہنمائی ہیں۔ 25-089 خواہش پرستی قرآن میں ارشاد ہوا ہے: کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ پس کیا تم اس کا ذمہ لے سکتے ہو۔ یا تم خیال کرتے ہو کہ ان میں سے اکثر سنتے اور سمجھتے ہیں ۔ وہ تو محض جانوروں کی طرح ہیں بلکہ وہ ان سے بھی زیادہ بے راہ ہیں۔ (الفرقان ۴۳-۴۴) کسی کو معبود بنانا یہ ہے کہ اس کو اپنی زندگی میں سب سے زیادہ اونچا درجہ دے دیا جائے۔ ہر دوسری باتیں غیر اہم ہوں اور وہ چیز سب سے زیادہ اہم ۔ آدمی ہر دوسری بات کو نظر انداز کر سکتا ہو مگر اس چیز کو وہ نظر انداز نہ کر سکے۔ اس چیز کی بڑائی اس کے نزدیک اتنی زیادہ ہو کہ بقیہ سب کچھ اس کے نزدیک ہیچ ہو جائے۔ جب کوئی شخص اپنی خواہش کو اس قسم کا اونچا درجہ دے دے تو گویا کہ اس نے اس چیز کو اپنا معبود بنا لیا۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا۔ وہی انسان کی تمام ضرورتیں پوری کرتا ہے۔ انسان کو اس دنیا میں جو کچھ ملتا ہے وہ اللہ سے ملتا ہے۔ اللہ کے سوا کسی اور سے اس کو کچھ ملنے والا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اس حیثیت کا تقاضا ہے کہ وہ صرف اللہ کو اپنا سب کچھ سمجھے ۔ وہ اللہ سے سب سے زیادہ ڈرے اور اسی سے سب سے زیادہ محبت کرے ۔ اس کی زندگی میں سب سے بڑا درجہ صرف ایک اللہ کا ہو، اس کے سوا تمام چیزیں اس کی نظر میں چھوٹی ہو جائیں۔ اسی کا نام توحید ہے اور توحید کے بغیر کسی انسان کی نجات ممکن نہیں۔ جو لوگ اپنی خواہشات کو اپنا رہنما بنالیں وہ گویا حیوان کے مانند ہیں۔ حیوان کو حق اور ناحق

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page