مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 130
By Maulana Wahiduddin Khan
کی تمیز نہیں ہوتی۔ وہ صرف اپنی خواہش کو جانتا ہے اور اس کے پیچھے چلتا ہے۔ یہی حال انسان کا ہو جائے تو انسان اور حیوان میں کیا فرق بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ایسا انسان جانور سے بھی زیادہ بد تر ہے کیوں کہ جانور پھر بھی اپنی تخلیق پر قائم ہے، جب کہ ایسا انسان گویا اپنے تخلیقی نقشے سے ہٹ گیا۔ 25-090 رحمان کے بندے قرآن میں اہل جنت کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں۔ اور جب جاہل لوگ ان سے بات کرتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام۔ اور جو اپنے رب کے آگے سجدہ اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔ اور جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب جہنم کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔ بے شک اس کا عذاب پوری تباہی ہے۔ بے شک وہ برا ٹھکانہ ہے اور برا مقام ہے۔ اور وہ لوگ کہ جب وہ خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں۔ اور ان کا خرچ اس کے درمیان اعتدال پر ہوتا ہے۔ اور جو اللہ کے سوا کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے۔ اور وہ اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو قتل نہیں کرتے مگر حق پر۔ اور وہ بدکاری نہیں کرتے۔ اور جو شخص ایسے کام کرے گا تو وہ سزا سے دوچار ہوگا۔ قیامت کے دن اس کا عذاب بڑھتا چلا جائے گا۔ اور وہ اس میں ہمیشہ ذلیل ہو کر رہے گا۔ مگر جو شخص توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک کام کرے تو اللہ ایسے لوگوں کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا۔ اور اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔ اور جو شخص تو بہ کرے اور نیک کام کرے تو وہ در حقیقت اللہ کی طرف رجوع کر رہا ہے۔ اور جو لوگ جھوٹے کام میں شامل نہیں ہوتے۔ اور جب کسی بیہودہ چیز سے ان کا گزر ہوتا ہے تو وہ سنجیدگی کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔ اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان کو ان کے رب کی آیتوں کے ذریعہ نصیحت کی جاتی ہے تو وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گرتے۔ اور جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب، ہم کو ہماری بیوی اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہم کو پر ہیز گاروں کا امام بنا۔ یہ لوگ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader