Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں کہ ان کو بالا خانے ملیں گے اس لئے کہ انھوں نے صبر کیا۔ اور ان میں ان کا استقبال تحیت اور سلام کے ساتھ ہو گا۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ وہ خوب جگہ ہے ٹھہرنے کی اور خوب جگہ ہے رہنے کی۔ (الفرقان ۶۳-۷۲) قرآن کی ان آیتوں میں بتایا گیا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جن کو آخرت کی ابدی جنتوں میں جگہ ملے گی۔ یہاں چند آیتوں میں ایسے لوگوں کی بنیادی صفتوں کو بتا دیا گیا ہے۔ ان آیتوں پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ان لوگوں کا معاملہ اپنے رب کے ساتھ کس طرح کا ہوتا ہے اور ان انسانوں کے ساتھ ان کا سلوک کیسا ہوتا ہے جن کے درمیان وہ زندگی گزار رہے ہوں۔ ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جنتی اوصاف ان لوگوں میں پیدا ہوتے ہیں جو دنیا میں اس احساس کے ساتھ رہیں کہ وہ خدائے رحمان و رحیم کے بندے ہیں۔ ان کی حیثیت خدا کے مقابلے میں عبد کی ہے۔ وہ آزاد نہیں ہیں بلکہ وہ ہر لمحہ خدا کے ماتحت ہیں۔ دنیا میں خدا کا بندہ بن کر رہنے کی قیمت صرف ایک ہے، اور وہ صبر ہے۔ نفس کے مقابلے میں صبر، شیطان کے مقابلے میں صبر اور منفی جذبات کے مقابلے میں صبر۔ جو آدمی صبر کی یہ قیمت دینے کے لئے تیار ہو وہی موجودہ دنیا میں خدا پرستانہ زندگی پر قائم رہے گا۔ جنت کی قیمت صبر ہے۔ صبر کے بغیر کوئی شخص جنت والے عمل نہیں کر سکتا، اس لئے صبر کے بغیر کوئی شخص جنت میں داخل بھی نہیں ہو سکتا۔ حقیقی توبہ خود ایک عمل ہے، جو گناہ آدمی کے اندر حقیقی توبہ کی کیفیت پیدا کرے وہ گناہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے ایسا ہے کہ اس کو نیکی کے خانہ میں لکھ دیا جائے۔ 25-091 برائی کے بدلے نیکی قرآن میں بعض گناہوں کا اور ان کے اخروی انجام کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: مگر جو شخص تو بہ کرے اور ایمان لائے اور نیک کام کرے تو اللہ ایسے لوگوں کی برائیوں کو بھلائیوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page