برائی کے بدلے نیکی
Urdu book, p. 132
By Maulana Wahiduddin Khan
سے بدل دے گا۔ اور اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔ اور جو شخص توبہ کرے اور نیک کام کرے تو وہ در حقیقت اللہ کی طرف رجوع کر رہا ہے۔ (الفرقان ۷۰۔۷۱) اس آیت میں ایک غیر معمولی انعام کا ذکر ہے۔ اس میں صرف یہ نہیں کہا گیا ہے کہ اللہ ایسے لوگوں کی گناہوں کو معاف کر دے گا۔ بلکہ اس کے بجائے یہ فرمایا کہ اللہ ان کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کردے گا یعنی ان سے جو برائی سر زد ہوئی وہ سادہ طور پر معاف نہ ہوگی بلکہ وہ برائی بجائے خود نیکی بن جائے گی۔ یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے: ”ان السيئات تبدل بحسنات“ (تفسیر القرطبی ۱۳/ ۸۷) یہاں در اصل مخصوص قرآنی اسلوب کے مطابق، بندے کی بات کو خدا کی طرف منسوب کر کے کہا گیا ہے۔ مذکورہ قسم کے اہل ایمان در اصل اپنی توبہ کے ذریعہ اپنی سیئات کو حسنات میں بدل چکے ہوں گے۔ اس کے بعد اللہ ان کی اس ”تبدیلی“ کو قبول کر کے خود بھی ان کی سیئات کو ان کی حسنات کے خانے میں درج کر دے گا۔ یہ معاملہ اللہ کی خصوصی توفیق سے ہوگا۔ اس لئے اس کو اللہ کی طرف منسوب فرمایا۔ یہ خدا کا وہ بندہ ہے جس سے بشری تقاضے کے تحت کوئی گناہ ہو گیا، اس کے بعد وہ احساس گناہ سے تڑپ اٹھا۔ اس کے اندر نہایت گہرائی کے ساتھ توبہ اور رجوع الی اللہ کی کیفیت پیدا ہو گئی ۔ وہ اس طرح خدا سے معافی مانگنے لگا کہ ایک طرف اس کی لرزتی ہوئی زبان پر اعتراف کے کلمات تھے اور دوسری طرف اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب جاری تھا۔ اس کا یہ داخلی تجربہ اتنا شدید تھا کہ ایسا محسوس ہونے لگا گویا کہ وہ خدا کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہے اور کسی درمیانی واسطے کے بغیر براہ راست طور پر اس سے مخاطب ہے۔ اس بندۂ خدا سے اگرچہ بظاہر ایک گناہ سر زد ہوا تھا۔ مگر اس کے بعد اس کی جو کیفیت ہوئی وہ اعلیٰ ترین ایمانی کیفیت تھی۔ اس کے گنہگار جسم کو اس کے مقدس آنسوؤں نے دھو کر پہلے سے بھی زیادہ پاک کر دیا۔ اس کی شخصیت اندر سے لے کر باہر تک ایک ربانی شخصیت بن گئی۔ وہ خدا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader