Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 133

By Maulana Wahiduddin Khan

سے اتنا زیادہ قریب ہو گیا جتنا اس سے پہلے وہ کبھی نہیں ہوا تھا۔ تقویٰ خشوع، انابت، تضرع اور اخبات جیسی اعلیٰ ایمانی صفات اس کے اندر کمال درجہ میں پیدا ہو گئیں۔ وہ اس نادر روحانی تجربہ سے دوچار ہوا جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: تعبد اللہ كانك تراه (صحيح البخارى) یعنی اللہ کی عبادت اس طرح کرو جیسے کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو۔ مذکورہ بندے سے جب بشری تقاضے کے تحت گناہ سر زد ہوا تو اپنے ظاہر کے اعتبار سے وہ ایک گناہ ہی تھا۔ مگر اس گناہ کے بعد اس کا جو نتیجہ اس کی شخصیت میں ظاہر ہو ا وہ بجائے خود سب سے بڑی نیکی تھا۔ اس طرح بندے نے اگر چہ بظاہر ایک گناہ کیا تھا مگر اس کے بعد اس کی توبۂ نصوح نے اس گناہ کو بدل کر اس کو ان احوال تک پہنچا دیا جو نیکی کی اعلیٰ ترین قسم سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب ایسا ہوا تو اللہ نے اس بندے کی ’’تبدیلی‘‘ کو حسنِ قبول عطا کرتے ہوئے یہ عنایت فرمائی کہ اس کی برائی کو نیکی کے خانے میں درج کر دیا۔ 26-092 ایمان کی طاقت قرآن کی سورہ الشعراء میں موسیٰ اور فرعون کا قصہ بیان ہوا ہے۔ فرعون نے حضرت موسیٰ کا مقابلہ کرنے کے لئے مصر کے جادوگروں کو بلایا۔ جب تمام لوگ میدان میں اکٹھا ہوئے تو قرآن کے مطابق، جادوگروں اور فرعون کے درمیان یہ مکالمہ ہوا: پھر جب جادو گر آئے تو انھوں نے فرعون سے کہا، کیا ہمارے لئے کوئی انعام ہے اگر ہم غالب رہے۔ فرعون نے کہا ہاں، اور تم اس صورت میں مقرب لوگوں میں شامل ہو جاؤ گے۔ (الشعراء ۲۱۔۴۲) یہ جادو گر جو آغاز میں مصر کے بادشاہ فرعون کے ساتھ اس قسم کی خوشامدانہ باتیں کر رہے تھے وہ بعد کو بالکل بدل گئے۔ مقابلے میں جب فرعون کو شکست ہوئی اور جادوگروں کے جادو کو حضرت موسیٰ کے عصا نے نگل لیا تو جادو گروں کا وہ حال ہوا جس کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: پھر جادوگر سجدے میں گر پڑے۔ انھوں نے کہا ہم ایمان لائے رب العالمین پر جو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page