Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 134

By Maulana Wahiduddin Khan

موسیٰ اور ہارون کا رب ہے۔ (الشراء ۴۶۔ ۴۸) جادو گروں کا یہ حال دیکھ کر فرعون سخت غصہ ہو گیا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ قرآن کے الفاظ میں یہ تھا: فرعون نے کہا، تم نے اس کو مان لیا اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں۔ بے شک وہی تمہارا استاد ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔ پس اب تم کو معلوم ہو جائے گا۔ میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا اور تم سب کو سولی پر چڑھادوں گا۔ (الشراء ۴۹) اس کے بعد جادو گروں کا رد عمل اس سے بالکل مختلف تھا جس کا اظہار انہوں نے شروع میں فرعون کے ساتھ کیا تھا۔ قرآن کا بیان ہے کہ : جادو گروں نے فرعون کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ کچھ حرج نہیں، ہم اپنے مالک کے پاس پہنچ جائیں گے۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہماری خطاؤں کو معاف کر دے گا۔ اس لئے کہ ہم پہلے ایمان لانے والے بنے (الشراء ۵۰۔ ۵۱) جادو گروں کے اندر یہ فرق کیسے پیدا ہوا۔ وہی جادو گر جو مقابلہ سے پہلے فرعون سے خوشامد کی باتیں کر رہے تھے۔ انہوں نے مقابلہ کے بعد جرات اور قربانی کی زبان بولنا شروع کر دیا۔ یہ فرق ایمان کے نتیجہ میں پیدا ہوا۔ مقابلہ سے پہلے جادو گر عام انسان تھے جن کو حق کی معرفت نہیں ملی تھی۔ مگر مقابلہ کے بعد انھیں حق کی معرفت حاصل ہو گئی۔ یہی وہ چیز ہے جس نے ان کے کردار میں فرق پیدا کر دیا۔ حق کی معرفت کسی انسان کے لئے سب سے بڑا تجربہ ہے۔ حق کی معرفت ایک عام انسان کو غیر معمولی انسان بنا دیتی ہے۔ اس کے بعد آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ ہیرو د والا کردار ادا کرے، وہ بڑی سے بڑی قربانی کا بھی یقین اور حوصلہ کے ساتھ استقبال کر سکے۔ شاعر کا مقام عرب کے لوگ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو شاعر کہتے تھے۔ اس کی تردید کرتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اور شاعروں کے پیچھے بے راہ لوگ چلتے ہیں۔ کیا تم نہیں دیکھتے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page