مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 135
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں اور وہ کہتے ہیں جو وہ کرتے نہیں۔ مگر جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور انھوں نے اللہ کو بہت یاد کیا اور انھوں نے بدلہ لیا بعد اس کے کہ ان پر ظلم ہوا۔ اور ظلم کرنے والوں کو جلد معلوم ہو جائے گا کہ ان کو کیسی جگہ لوٹ کر جانا ہے۔ (الشعراء ۲۲۷۔۲۲۴) قرآن کی یہ آیت اصلا مخالَفینِ رسول کے پروپیگنڈے کے جواب میں آئی ہے۔ تاہم اس سے یہ اصول معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی دعوت اور انسانی اصلاح کا کام شعر و شاعری کے ذریعہ نہیں ہو سکتا۔ شعر و شاعری کا طریقہ کسی سنجیدہ مشن کے لئے ہر گز مفید نہیں ہے۔ کوئی شاعر اگر اپنے شاعرانہ کلام کے ذریعہ کچھ لوگوں کو اکٹھا کر لے تو یقینی طور پر وہ غیر سنجیدہ لوگ ہوں گے۔ ایسے لوگوں کے ذریعہ تعمیر و اصلاح کا کوئی گہرا کام نہیں کیا جا سکتا۔ 27-094 سیاسی ٹکراؤ نہیں قرآن میں حضرت سلیمان اور ملکۂ سبا کا قصہ بیان ہوا ہے۔ حضرت سلیمان نے ملکۂ سبا کے پاس ایک خط بھیج کر اس سے اطاعت کا مطالبہ کیا۔ ملکۂ سبا نے اپنے درباریوں سے مشورہ کیا۔ درباریوں نے اطاعت قبول نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ ملکۂ سبا نے اس پر خطر رائے سے اختلاف کیا: اس نے کہا کہ بادشاہ لوگ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو وہ اس کو خراب کر دیتے ہیں اور وہ اس کے عزت والوں کو ذلیل کر دیتے ہیں اور یہی یہ لوگ کریں گے۔ (النمل ۳۴) ملکۂ سبا کے سامنے جب یہ مسئلہ آیا تو اس نے اس معاملہ کو خالص حقیقت پسندانہ انداز سے دیکھا۔ اس نے یہ رائے قائم کی کہ اگر ہم سلیمان کی ملاقات سے ٹکرائیں تو زیادہ امکان یہ ہے کہ ہم ہاریں گے اور پھر ہمارے ساتھ وہی کیا جائے گا جو ہر غالب قوم مغلوب قوم کے ساتھ کرتی ہے۔ اس کے بر عکس اگر ہم اطاعت قبول کر لیں تو ہم تباہی سے بچ جائیں گے۔ ملکۂ سبا نے اپنی اس گفتگو میں حضرت سلیمان کے بارہ میں کہا کہ : و كذلك يفعلون (النمل ۳۴) یعنی سلیمان بھی ایسا ہی کریں گے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ تردید نہیں فرمائی کہ سلیمان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader