مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 136
By Maulana Wahiduddin Khan
تو پیغمبر ہیں وہ ایسا کرنے والے نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ سیاسی ٹکراؤ کا اپنا ایک مزاج ہے۔ اس میں کوئی استثناء نہیں۔ ایسی حالت میں ایسا کرنا درست نہیں کہ کوئی جماعت طاقتور حکمراں سے ٹکرا جائے۔ اگر اس نے ایسا کیا تو پھر وہی ہوگا جس کی طرف ملکہ ٔسبانے اپنے مذکورہ جواب میں اشارہ کیا ہے۔ ایسے گروہ کو جاننا چاہئے کہ سیاسی ٹکراؤ کے بعد جب وہ حکمراں کے ظلم کی شکایت کرے گا تو ایسی شکایت کی قیمت نہ بندوں کی نظر میں ہوگی نہ خدا کی نظر میں۔ 28-095 غلطی کی معافی حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ایک واقعہ قرآن میں اس طرح بیان ہوا ہے: اور شہر میں موسیٰ ایسے وقت داخل ہوئے جب کہ شہر والے غفلت میں تھے تو اس نے وہاں دو آدمیوں کو لڑتے ہوئے پایا۔ ایک موسیٰ کی اپنی قوم کا تھا اور دوسرا دشمنوں میں سے تھا۔ تو جو اس کی قوم میں سے تھا اس نے اس کے خلاف مدد طلب کی جو اس کے دشمنوں میں سے تھا۔ پس موسیٰ نے اس کو گھونسا مارا پھر اس کا کام تمام کر دیا۔ موسیٰ نے کہا کہ یہ شیطان کے کام سے ہے۔ بے شک وہ دشمن ہے کھلا گمراہ کرنے والا۔ اس نے کہا کہ اے میرے رب، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے۔ پس تو مجھ کو بخش دے تو خدا نے اس کو بخش دیا۔ بے شک وہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔ (القصص ۱۵- ۱۶) قرآن کے اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر غلطی خدا کے یہاں معاف ہو سکتی ہے۔ کسی آدمی سے کوئی غلطی ہو جائے اس کے بعد وہ فوراً چونک اٹھے۔ وہ اپنی غلطی کا کھلا اعتراف کرتے ہوئے دل سے معافی کا طلب گار ہو۔ وہ غلطی کرنے کے بعد اس کو چھپانے یا اس کا جواز تلاش کرنے کی کوشش نہ کرے تو خدا اس کی غلطی کو معاف کر دے گا، خواہ بظاہر وہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو ۔ غلطی کرنے کے بعد غلطی کا شدید اعتراف بھی بجائے خود ایک نیکی ہے۔ ایسی نیکی برائی کو ڈھانپ لیتی ہے۔ غلطی کرنے کے بعد سرکشی کرنا جرم میں اضافہ کرتا ہے اور غلطی کے بعد شرمسار ہونا غلطی کو مٹا دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader