مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 137
By Maulana Wahiduddin Khan
بنیادی انسانی صفت حضرت موسیٰ جب مصر سے نکل کر مدین پہنچے اور ایک بزرگ کی بکریوں کو پانی پلایا تو یہ واقعہ ان کے لئے اس بزرگ کے گھر پہنچنے کا ذریعہ بن گیا۔ اپنے ایک اہل خانہ کے کہنے پر انہوں نے حضرت موسیٰ کو اپنے گھر کے کام کے لئے رکھ لیا۔ اس وقت کہنے والے نے حضرت موسیٰ کے تعارف میں جو کچھ کہا وہ قرآن میں اس طرح نقل ہوا ہے: ان میں سے ایک نے کہا کہ اے باپ اس کو ملازم رکھ لیجئے ۔ بہترین آدمی جسے آپ ملازم رکھیں وہ وہی ہے جو مضبوط اور امانت دار ہو ۔ (القصص ۲۶) مذکورہ بزرگ کے خاندان لو حطر جرب سے یہ معلوم ہوا ھالہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں اور دیانت دار بھی۔ مذکورہ جملے میں حضرت موسیٰ کی ان دو صفتوں کا ذکر نہایت با معنی ہے۔ اس سے یہ اصول معلوم ہوتا ہے کہ بہتر کار کن کون ہے اور کسی کار کن کے انتخاب میں کس معیار کو سامنے رکھنا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں انسانی صفات، امان اور قوت (honesty & hard working) تمام ضروری صفات کی جامع ہیں۔ آدمی کے انتخاب کے لئے معیار مقرر کرنا ہو تو ان دو لفظوں سے بہتر کوئی معیار نہیں ہو سکتا۔ کسی آدمی کا محنتی ہونا اس بات کا ضامن ہے کہ اس کو جو کام سونپا جائے گا اس کو وہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ انجام دے۔ وہ کبھی اپنی کوشش میں کمی نہیں کرے گا۔ اسی طرح آدمی کا دیانت دار ہونا اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ وہ کبھی دھوکا نہیں دے گا۔ وہ ہر اعتماد میں پورا اتریگا۔ 28-097 دہرا اجر والے قرآن میں اہل کتاب کے اسلام کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: یہ لوگ ہیں کہ ان کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader