Urdu book · مطالعہ قرآن

دہرا اجر والے

Urdu book, p. 138

By Maulana Wahiduddin Khan

ان کا اجر دہرادیا جائے گا اس پر کہ انھوں نے صبر کیا۔ اورہ برائی سے بھلائی کو دفع کرتے ہیں اور ہم نے جو کچھ ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں اور جب وہ لغو بات سنتے ہیں تو اس سے اعراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال۔ تم کو سلام، ہم بے سمجھ لوگوں سے الجھنا نہیں چاہتے۔ (القصص ۵۲۔۵۵) اس آیت میں جس دوہرے اجر کا ذکر ہے اس کا تعلق صرف اہل کتاب سے نہیں ہے بلکہ وہ ایک عام حقیقت ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو لوگ ایک عرصہ تک کسی خاص گروہ سے وابستہ رہیں، وہ اس کے ساتھ تعصب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ان کا ایک محدود ذہنی سانچہ بن جاتا ہے۔ وہ اپنی مانوس سچائی کو آخری اور اصلی سچائی سمجھ لیتے ہیں۔ وہ اپنے ذہنی سانچے کو توڑ کر کسی نئی حقیقت کو سمجھنے سے عاجز رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں جو شخص اس صفت کا ثبوت دے کہ وہ اپنے ذہنی تعصبات کو توڑ کر مجرد سچائی کو پہچان سکتا ہے وہ اپنے عمل سے اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ اس کو دہر ا اجر دیا جائے۔ تاہم یہ کوئی آسان کام نہیں۔ اپنے آپ کو اس قابل رکھنے کے لئے آدمی کو صبر کے مشکل مرحلہ سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انھوں نے اپنے ذہن کو ان اثرات سے پاک رکھا تھا جس کے بعد آدمی حق کی معرفت کے لئے نااہل ہو جاتا ہے۔ یہ وہ تاریخی اور سماجی عوامل ہیں جو آدمی کے ذہن میں خدائی دین کو گروہی دین بنا دیتے ہیں۔ آدمی کا یہ حال ہو جاتا ہے کہ وہ صرف اس دین کو پہچان سکے جو اس کو اپنے گروہ سے ملا۔ وہ ایسے دین کو پہچاننے میں ناکام رہے جو اس کے اپنے گروہ کے باہر سے اس کے پاس آئے۔ ان اثرات سے محفوظ رہنے کے لئے آدمی کو زبردست نفسیاتی قربانی دینی پڑتی ہے۔ اس لئے اس کو صبر سے تعبیر فرمایا۔ ایسے لوگوں کو دہر ا اجر دیا جائے گا۔ ایک ان کی قربانی کا کہ انھوں نے اپنے سابقہ ایمان کو گروہی ایمان بننے نہیں دیا۔ اور دوسرے ان کی جو ہر شناسی کا کہ ان کے سامنے نیا پیغمبر آیا تو انہوں نے اس کو پہچان لیا اور اس کے ساتھ ہوگئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page