مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 139
By Maulana Wahiduddin Khan
جن لوگوں کے اندر حق شناسی کا مادہ ہو انھیں کے اندر اعلیٰ اخلاقی اوصاف پرورش پاتے ہیں۔ لوگ ان کے ساتھ برائی کریں تب بھی وہ لوگوں کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں۔ وہ دوسروں کی مدد کرتے ہیں تاکہ خدا ان کی مدد کرے۔ ان کا طریقہ اعراض کا طریقہ ہوتا ہے نہ کہ لوگوں سے الجھنے کا طریقہ۔ ہدایت یابی کے لئے قانون الہی پیغمبر اسلام کو خطاب کرتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے : تم جس کو چاہو اس کو ہدایت نہیں دے سکتے۔ بلکہ اللہ جس کو چاہتا ہے اس کو ہدایت دیتا ہے۔ اور وہ خوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے والے ہیں۔ (القصص ۳۶) داعی پر یہ فرض ہے کہ وہ لوگوں تک حق کی بات پہنچانے کے لئے اپنی ساری کوشش صرف کرے، وہ اپنی کوششوں میں کوئی کمی نہ کرے۔ اس کے بغیر وہ اپنی دعوتی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہو سکتا، مگر اس کا قبول یا رد کرنے سے کوئی تعلق نہیں۔ داعی کا کام ہے کہ حق بات لوگوں تک جلدوس نہیں ہو سکتا۔ مگر جہاں تک قبول حق کا تعلق ہے، وہ داعی کے چاہنے سے، کسی کی اس کی دعاؤں سے بھی نہیں ہو سکتا۔ قبول حق کا تعلق یک طرفہ طور پر مدعو کی اپنی ذات سے ہے نہ کہ داعی کی ذات سے۔ ہدایت دینے والا اللہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہدایت پانے کا تعلق اللہ کے اس قانون سے ہے جو اس نے ہدایت یابی کے لئے مقرر فرمایا۔ اور وہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر خود ہدایت کی طلب موجود ہو۔ جس آدمی کے اندر ہدایت کی سچی طلب پائی جائے وہ حق کی تلاش میں رہے گا۔ جب اس کے سامنے حق آئے گا تو وہ کھلے ذہن کے ساتھ اس پر غور کرے گا وہ اس کے لئے تیار رہے گا کہ جب ایک چیز کا حق ہونا معلوم ہو جائے تو کسی تحفظ ذہنی کے بغیر وہ اس کو قبول کر لے۔ حق اس کو ملتا ہے جو حق کا طالب ہو۔ جس آدمی کے اندر طلب کی صفت موجود نہ ہو اس کو کوئی بھی دوسری چیز ہدایت دینے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader