سزا سے پہلے تبلیغ
Urdu book, p. 140
By Maulana Wahiduddin Khan
سزا سے پہلے تبلیغ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اور تیرا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک ان کی بڑی بستی میں کسی پیغمبر کو نہ بھیج لے جو ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے اور ہم ہر گز بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہیں مگر جب کہ وہاں کے لوگ ظالم ہوں۔ (القصص ۵۹) دوسری جگہ یہی بات قرآن میں اس طرح آئی ہے : یہ اس وجہ سے کہ تمہارا رب بستیوں کو ان کے ظلم پر اس حال میں ہلاک کرنے والا نہیں کہ وہاں کے لوگ بے خبر ہوں۔ (الانبام ۱۳۲) ان آیتوں میں خدا کا قانون بتایا گیا ہے جس کے تحت قوموں پر دنیا میں ہلاک کر دینے والا عذاب آتا ہے۔ اس قانون کے مطابق ، کسی قوم پر ہلاکت والا عذاب صرف اس لئے آسکتا ہے کہ وہ گمراہی میں مبتلا ہے یا وہ کسی گروہ سے مادی جھگڑوں کی وجہ سے اس کے اوپر ظلم و زیادتی کر رہی ہے۔ اس قسم کا دنیوی عذاب کسی قوم پر صرف اس وقت آتا ہے جب کہ اس کے درمیان حق کی دعوت اٹھے۔ اس دعوت کو اس قوم کے تمام افراد کی سطح پر اور ساتھ ہی ساتھ جاری و ساری رکھنے میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے اس کے اندر کی تمام ضروری سرگرمیوں کے ساتھ جاری رہے ہوۓ اتمام حجت تک پہنچائے۔ یہاں تک کہ اس کی غفلت اور اس کی بے خبری ٹوٹ جائے۔ اس کے باوجود وہ انکار اور سرکشی پر قائم رہے۔ مزید یہ کہ داعی اور اس کا ساتھ دینے والے حق پرست اس قوم کی بستیوں کو چھوڑ کر باہر چلے جائیں۔ جب یہ تمام شرطیں پوری ہو جائیں تو اس کے بعد وہ وقت آتا ہے جب کہ اس کے اوپر ہلاکت والا عذاب آئے۔ ایک گروہ کو اگر یہ شکایت ہو کہ کوئی قوم اس کے اوپر ظلم کر رہی ہے اور اس کو اپنی زیادتیوں کا نشانہ بنا رہی ہے تو محض یہ بات کسی قوم کی ہلاکت کا سبب نہیں بن سکتی۔ ایسی حالت میں جو گروہ وہ اپنے آپ کو مظلوم سمجھ رہا ہے، خواہ وہ کتنی ہی بد دعائیں کرے ۔ وہ اپنے ہر اجتماع میں یہ الفاظ دہرائے : الهم اهلك الكفرة والمشركين، الهم خذهم اخذ عزيز مقتدر الهم اهلكهم كما اهلكت عادا وثمودا، تو محض اس قسم کی بد دعاؤں کی بنا پر یہ نا ممکن ہے کہ مذکورہ قوم پر ہلاکت والا عذاب آجائے۔ اس قسم کے عذاب کا تعلق دعوت سے ہے نہ کہ محض ظلم سے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader