مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 141
By Maulana Wahiduddin Khan
مذکورہ آیت میں ظلم سے مراد مادی نزاعات کی بنا پر پیش آنے والا ظلم نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد وہ ظلم و سرکشی ہے جو دعوتِ حق کے خلاف کسی قوم کی طرف سے کی جائے۔ 28-100 آخرت کا گھر قرآن میں ارشاد ہوا ہے: یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کو دیں گے جو زمین میں نہ بڑا بننا چاہتے ہیں اور نہ فساد کرنا اور آخری انجام ڈرنے والوں کے لئے ہے۔ (القصص ۸۳) آخرت کے گھر سے مراد آخرت کی جنت ہے۔ جنت کی آبادی میں بسنے کے قابل وہ لوگ ہیں جن کے سینے اپنی بڑائی کے احساس سے خالی ہوں۔ جو خدا کی بڑائی کو اس طرح پائیں کہ اپنی طرف اٹھیں چھوٹیائی کے سوا اور کچھ نظر نہ آئے۔ فساد یہ ہے کہ آدمی خدا کی اسکیم سے موافقت نہ کرے۔ وہ خدا کی دنیا میں خدا کی مرضی کے خلاف چلنے لگے۔ جو لوگ کبر سے خالی ہو جائیں وہ لازمی طور پر فساد سے بھی خالی ہو جاتے ہیں ۔ اور یہ اندر یہ لوگوں کے اعلیٰ اوصاف ہو جائیں وہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے ابدی باغوں میں بسائے جائیں گے۔ علو کا مطلب خدا کے مقابلے میں سرکشی کرنا ہے۔ قول یا عمل سے اپنے آپ کو خدا کے برابر ٹھہرانا ہے۔ فساد یہ ہے کہ کوئی آدمی انسانوں کے مقابلے میں سرکش بن جائے۔ وہ انسانی معاملات میں ظلم اور بے انصافی کا طریقہ اختیار کرے۔ 29-101 آزمائش ضروری ہے قرآن میں ارشاد ہوا ہے: کیا لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ محض یہ کہنے پر چھوڑ دئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کو جانچا نہ جائے گا۔ اور ہم نے ان لوگوں کو جانچا ہے جو ان سے پہلے تھے، پس اللہ ان لوگوں کو جانچ کر رہے گا جو سچے ہیں اور وہ جھوٹوں کو بھی ضرور معلوم کرے گا (العنکبوت ۲ - ۳)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader