Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 142

By Maulana Wahiduddin Khan

آدمی کے مومن ومسلم ہونے کا فیصلہ معمول کے حالات میں کئے جانے والے عمل پر نہیں ہوتا۔ بلکہ اس عمل پر ہوتا ہے جو آدمی غیر معمولی حالات میں کرتا ہے۔ یہ غیر معمولی حالات کیا ہیں۔ یہ وہ غیر معمولی مواقع ہیں جب کہ یہ کھل جاتا ہے کہ آدمی حقیقت میں وہ ہے یا نہیں جس کا دعویٰ وہ اپنی زبان سے یا اپنے ظاہری عمل سے کر رہا ہے۔ جو لوگ غیر معمولی حالات میں ایمان و اسلام پر قائم رہنے کا ثبوت دیں وہی خدا کے نزدیک حقیقی معنوں میں مومن اور مسلم قرار پاتے ہیں۔ جانچ میں پورا اترنا، بالفاظ دیگر، قربانی کی سطح پر ایمان و اسلام والا بننا ہے۔ یعنی جب عام لوگ انکار کر دیتے ہیں اس وقت تصدیق کرنا۔ جب لوگ شک کرتے ہیں اس وقت یقین کر لینا۔ جب اپنی انا کو کچلنے کی قیمت پر مومن بننا ہو اس وقت مومن بن جانا۔ جب ماننے میں سب کچھ فرار کے حالات ہوں اس وقت جمنے کا ثبوت دینا۔ جب اپنے آپ کو بچانے کا وقت ہو اس وقت اپنے آپ کو حوالے کر دینا۔ جب سر کشی کا موقع ہو اس وقت سر تسلیم خم کر دینا۔ جب سب کچھ لٹا کر ساتھ دینا ہو اس وقت خطرہ میں پڑ کر ساتھ دینا۔ ایسے غیر معمولی مواقع پر اندر والا انسان باہر آ جاتا ہے۔ اس کے بعد کسی کے لئے یہ موقع نہیں رہتا کہ وہ فرضی الفاظ بول کر اپنے کو وہ ظاہر کرے جو کہ حقیقت میں وہ نہیں ہے۔ 29-102 صفات مومن قرآن میں ارشاد ہوا ہے : تم اس کتاب کی تلاوت کرو جو تم پر وحی کی گئی ہے اور نماز قائم کرو۔ بے شک نماز بے حیائی سے اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ اور اللہ کی یاد بہت بڑی چیز ہے۔ اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ (العنکبوت ۴۵) اس آیت میں ”نماز برائیوں سے روکتی ہے“ کا جملہ نماز کی پہچان ہے نہ کہ سادہ طور پر نماز کا نتیجہ۔ حقیقی نماز کی دوسری پہچان یہ ہے کہ آدمی کے اندر خدا کی یاد کی صفت پیدا ہو جائے اور خدا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page