مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 143
By Maulana Wahiduddin Khan
کی یاد بلا شبہ تمام نیکیوں میں سب سے بڑی نیکی ہے۔ نماز کی ایک ظاہری صورت ہے اور دوسری چیز اس کی اسپرٹ ہے۔ جس آدمی کی زندگی میں نماز اس کی اسپرٹ کے ساتھ شامل ہو جائے تو اس کے اندر یہ خصوصیات پیدا ہو جاتی ہیں۔ نماز میں اللہ اکبر (اللہ بڑا ہے) کی تکرار اس کو اپنے چھوٹے ہونے کا احساس دلاتی ہے۔ نماز میں قرآن کی تلاوت اس کے اندر خدا کے شعور کو جگاتی ہے۔ نماز میں رکوع اور سجدہ اس کے اندر تواضع کی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔ ایک امام کے پیچھے نماز پڑھنا اس کے لئے اجتماعیت کا سبق بن جاتا ہے۔ نماز کے خاتمہ پر السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہنا اس کے اندر یہ جذبہ ابھارتا ہے کہ اس کے سینے میں تمام دنیا کے لوگوں کے لئے سلامتی اور رحمت کا جذبہ پیدا ہو جائے۔ ذکر سے مراد خدا کی یاد ہے۔ جب آدمی کو خدا کی کامل معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ جب وہ پوری طرح خدا کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اوپر خدا کا تصور چھا جاتا ہے۔ اس کے اندر خدا کی یاد کا چشمہ بہہ پڑتا ہے۔ اس روحانی درجہ کو پہنچ کر آدمی کی زبان سے خدا کے لئے جو اعلیٰ کلمات نکلتے ہیں انھیں کا نام ذکر ہے۔ یہ ذکر بلا شبہ اعلیٰ ترین عبادت ہے۔ 29-103 صبر اور توکل قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کئے ان کو ہم جنت کے بالا خانوں میں جگہ دیں گے۔ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ کیا ہی اچھا اجر ہے عمل کرنے والوں کا۔ جنہوں نے صبر کیا اور جو اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔ (العنکبوت ۵۸-۵۹) اس آیت کے مطابق جنت اس انسان کے لئے ہے جو اپنے اندر دو قسم کی اخلاقی صفات رکھتا ہو۔ صبر اور توکل یہ دو صفتیں گویا کہ جنت کی قیمت ہیں۔ ان صفتوں کے بغیر کسی شخص کے لئے جنت کا داخلہ ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader