Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 144

By Maulana Wahiduddin Khan

اصل یہ ہے کہ جنت اس اعلیٰ انسان کے لئے ہے جو دنیا کی زندگی میں اس بات کا ثبوت دے کہ وہ مثبت ربانی شخصیت کا حامل ہے۔ موجودہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں آدمی کو نا خوشگوار تجربات کے درمیان جینا ہوتا ہے۔ یہ حالات بار بار آدمی کے داخلی روحانی سکون کو برہم کرتے رہتے ہیں۔ وہ بار بار منفی جذبات کا شکار ہوتا رہتا ہے۔ ایسی حالت میں صرف وہ انسان اپنی داخلی روحانیت کو بر قرار رکھ سکتا ہے جو صبر کی غیر معمولی صفت اپنے اندر رکھتا ہو۔ جو منفی حالات سے غیر متاثرہ رہ جئے، جو یک طرفہ اخلاقیات کے اصول پر زندگی گزارنے کا ثبوت دے سکے۔ ایسے ہی انسان کا نام صابر انسان ہے۔ توکل کی صفت آدمی کو تزلزل سے بچاتی ہے۔ وہ اس کو پر اعتماد زندگی عطا کرتی ہے۔ موجودہ دنیا میں بار بار اسے حوصلہ شکن تجربات پیش آتے ہیں جو آدمی کی اندرونی شخصیت کو ربورٹ ریائیں بار بار ایسے جذبات ہیں جن کے بولنے والے اس اندرونی کیف ہلا دیں۔ کبھی آدمی کو محسوس ہوتا ہے کہ دوسروں کو اس سے زیادہ ملا ہوا ہے۔ کبھی وہ اس احساس سے دوچار ہوتا ہے کہ اس کے پاس جو اسباب ہیں وہ اس کے عزائم کی نسبت سے بہت کم ہیں۔ کبھی اس کے حالات اس کو حوصلہ شکنی کی طرف لے جاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے احوال میں اللہ پر توکل ہی اس کا واحد سہارا بنتا ہے۔ وہ ظاہری حالات سے بے پرواہ ہو کر توکل علی اللہ کے سہارے آگے بڑھ جاتا ہے۔ یہ توکل ایک غیر معمولی ربانی صفت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توکل آدمی کو جنت کا مستحق بنا دیتا ہے۔ 29-104 دنیا اور آخرت قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اور یہ دنیا کی زندگی کچھ نہیں ہے مگر ایک کھیل اور دل کا بہلاوا۔ اور آخرت کا گھر ہی اصل زندگی کی جگہ ہے، کاش کہ وہ جانتے۔ (العنکبوت ٦۴) انسان کی گمراہی کا اصل سبب یہ ہے کہ وہ دنیا کی رونقوں اور دنیا کے مسائل میں اتنا گم ہوتا ہے کہ اس سے اوپر اٹھ کر سوچ نہیں پاتے۔ حقیقت کو پانے کے لئے اپنے آپ کو ظاہر سے اوپر اٹھانا پڑتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page