Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 145

By Maulana Wahiduddin Khan

بیشتر لوگ اپنے آپ کو ظاہر سے اوپر اٹھا نہیں پاتے اس لئے بیشتر لوگ حقیقت کو پانے والے بھی نہیں بنتے۔ 29-105 اللہ میں جہاد قرآن میں اہل ایمان کے بارہ میں ارشاد ہوا ہے : اور جن لوگوں نے ہمارے واسطے محنت کی، ان کو ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ اور یقینا اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (العنکبوت (۶۹) اس آیت میں جہاد فی سبیل اللہ کا لفظ نہیں ہے بلکہ جہاد فی اللہ کا لفظ ہے۔ یعنی اللہ میں جہاد کرنا، اللہ کے معاملہ میں اپنی محنت صرف کرنا۔ اس سے کیا مراد ہے۔ اس سے وہ کوشش مراد ہے جو اللہ کو پانے کے لئے کی جائے۔ جو تعلق باللہ بڑھانے کے لئے ہو۔ جس کا مقصد یہ ہو کہ آدمی کے اندر خدا کا شعور زندہ ہو اور اس کو قرب الہی کے تجربات ہونے لیں۔ اللہ پر ایمان کا مطلب صرف کلمہ پڑھ کر اقرار کرنا نہیں ہے۔ اس قسم کا ایمان صرف قانونی یا ظاہری ایمان ہے۔ اصل ایمان یہ ہے کہ آدمی اللہ کو ایک زندہ حقیقت کے طور پر دریافت کرے ۔ اس کا شعور اتنا زیادہ جاگ اٹھے کہ وہ کائنات کے مظاہر میں اللہ کی نشانیوں کو دیکھنے لگے۔ کرے ۔ اس کا سور اتنا زیادہ جاگ اٹھنے وہ کا کائنات کے مظاہر میں اللہ کی سائیوں کو دیکھتے رہے۔ اس کا ایمان جامد ایمان نہ ہو بلکہ ہر صبح وشام اس میں اضافہ ہوتا رہے۔ اس قسم کے زندہ ایمان کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا وہ عمل ہے جس کو یہاں جہاد فی اللہ کہا گیا ہے۔ ناحق پرستی کے ماحول میں حق پرست بننا ایک شدید مجاہدہ کا عمل ہے۔ اس میں ملی ہوئی چیز چھنتی ہے۔ حاصل شدہ سکون درہم برہم ہو جاتا ہے۔ مگر اس محرومی میں ایک عظیم یافت کا راز چھپا ہوا ہے۔ اور وہ معرفت اور بصیرت ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے انسانوں کے دروازے بند ہوتے ہیں مگر ان کے لئے خدا کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ وہ دنیا سے کھو کر خدا اسے پانے لگتے ہیں۔ وہ مادی راحتوں سے دور ہو کر ربانی کیفیات سے قریب ہو جاتے ہیں۔ ظاہری چیزیں ان سے اوجھل ہوتی ہیں مگر معنوی چیزیں ان پر منکشف ہو جاتی ہیں۔ ان پر معرفت کے ایسے بھید کھلنے لگتے ہیں جن کی عام لوگوں کو خبر بھی نہیں ہوتی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page