Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 146

By Maulana Wahiduddin Khan

خواہش پرستی قرآن میں کائنات کی بہت سی نشانیوں (آیات) کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ نشانیاں ایسی ہیں کہ اگر ان پر غور کیا جائے تو ان میں آدمی خدا کے وجود کو دریافت کر لیتا ہے۔ آخرت پر اس کا یقین بڑھ جاتا ہے۔ قرآنی تعلیمات کی صداقت اس پر منکشف ہو جاتی ہے۔ اس طرح کی نشانیوں کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوا ہے: بلکہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والوں نے بلا دلیل اپنے خیالات کی پیروی کرر کھی ہے۔ تو اس کو کون ہدایت دے سکتا ہے جس کو اللہ نے بھٹکا دیا ہو۔ اور کوئی ان کا مددگار نہیں۔ (الروم ۲۹) یہ آیت بتاتی ہے کہ حق کی بنیاد علم ہے اور ناحق کی بنیاد ہوا(خواہش)۔ موجودہ دنیا میں ہدایت کے اسباب اتنے زیادہ موجود ہیں کہ جو آدمی سنجیدہ اور واقعۂ حق کا طالب ہو وہ کبھی حق کو پانے میں غلطی نہیں کر سکتا۔ اس کی اپنی فطرت، اس کی خدا داد عقل، کائنات میں بکھری ہوئی نشانیاں اور خدا کی کتاب، یہ سب چیزیں انسان کی صحیح رہنمائی کے لئے کافی ہیں۔ وہ اس بات کی ضمانت ہیں کہ آدمی بھٹکے بغیر حق کی منزل تک پہنچ سکے۔ ایسی حالت میں سچائی کو پانے میں وہی شخص ناکام رہے گا جو حقائق کو نظر انداز کر کے اپنی خواہش کے پیچھے چلنے لگے۔ وہ آخرت کے بجائے دنیا کو ترجیح دے۔ وہ اصول کے بجائے مفاد پرستی کو اہم سمجھے۔ وہ حق کے اوپر اپنی مصلحتوں کو ترجیح دینے لگے۔ صرف ایسے ہی لوگ ہیں جو اس دنیا میں حق سے محروم رہیں گے۔ 30-107 دین فطرت قرآن میں ارشاد ہوا ہے: پس تم یکسو ہو کر اپنا رخ اس دین کی طرف رکھو، اللہ کی فطرت جس پر اس نے لوگوں کو بنایا ہے۔ اس کے بنائے ہوئے کو بدلنا نہیں۔ یہی سیدھا دین ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page