Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 147

By Maulana Wahiduddin Khan

اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اسی کی طرف متوجہ ہو کر۔ اور اسی سے ڈرو اور نماز قائم کرو اور مشرکین میں سے نہ بنو جنھوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر لیا۔ اور بہت سے گروہ ہو گئے۔ ہر گروہ اپنے طریقہ پر نازاں ہے جو اس کے پاس ہے۔ (الروم ۳۰- ۳۲) خدا کا دین وہی ہے جو انسان کی فطرت ہے۔ اور انسان کی فطرت عین وہی ہے جو خدا کا دین ہے۔ اس بنا پر انسان کے لئے نہ خدا کے دین کو پہچانا مشکل ہے اور نہ اس پر قائم رہنا۔ اس کے باوجود انسان اگر گمراہ ہوتا ہے تو اس کے لئے وہ خود اپنے آپ ذمہ دار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل دین ایک ہے۔ اور وہ ہر پیغمبر پر اپنی کامل شکل میں اترا ہے۔ وہ ہے ایک اللہ کی طرف رجوع، ایک اللہ کا ڈر، ایک اللہ کی پرستاری، ہمہ تن ایک اللہ کی طرف متوجہ ہو جانا، یہی دینِ فطرت ہے۔ یہ دین ابدی طور پر انسان کی نفسیات میں سمایا ہوا ہے، ۔توجہ ہو جاتا ہے، یہی دین سیرت ہے۔ یہ دین ابدی طور پر انسان کی حیات میں دیا ہوا ہے۔ تمام پیغمبروں نے اسی ایک دین کی تعلیم دی۔ مگر ان کے پیروؤں کی بعد کی نسلوں نے ایک دین کو کئی دین بناڈالا۔ گئی دین، ہمیشہ اضافی بخشوں سے بنتا ہے جو بعد کے لوگ پیغمبروں کی ابتدائی تعلیمات میں پیدا کرتے ہیں۔ عقائد میں نو ایجاد موشکافیاں، عبادات میں خود ساختہ مسائل کا اضافہ، زمانہ کے تاثر کے تحت دین کی نئی نئی تعبیریں۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو بعد کے دور میں ایک دین کو کئی دین بنا دیتی ہیں۔ جب یہ اضافے وجود میں آتے ہیں تو لوگ اصل دین کے بجائے اپنے انہیں اضافوں پر سب سے زیادہ زور دینے لگتے ہیں۔ جن کی بدولت وہ دوسرے گروہ سے جدا ہو کر الگ گروہ بنے ہیں۔ ایک گروہ ایک قسم کے اضافہ پر زور دیتا ہے، اور دوسرا گروہ دوسرے قسم کے اضافہ پر۔ اس طرح بالآخر یہ نوبت آتی ہے کہ ایک دین کو ماننے والے عملاً کئی دینی گروہ میں بٹ کر رہ جاتے ہیں۔ 30-108 دعوت اور صبر قرآن میں دعوت اسلامی کے مخالفین کا ذکر کرتے ہوئے پیغمبر کو یہ نصیحت کی گئی ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page