مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 148
By Maulana Wahiduddin Khan
پس تم صبر کرو، بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اور تم کو بے برداشت نہ کر دیں وہ لوگ جو یقین نہیں رکھتے۔ (الروم ۶۰) دعوت حق کا کام ایک بے حد نازک کام ہے۔ داعی کی طرف سے حق کی پیغام رسانی کی حیثیت سادہ طور پر ایک اعلان کی نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ایسا عمل ہے جس کی بنیاد پر مدعو کے ابدی مستقبل کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ دعوتی عمل کا یہ پہلو اس کو آخری حد تک ایک سنجیدہ عمل بنا دیتا ہے۔ اس مصلحت کی بنا پر ضروری ہو جاتا ہے کہ دعوت کے عمل میں مدعو کی کامل رعایت کی جائے تاکہ جن لوگوں کے اندر قبولیت کا مادہ ہے وہ حق کو سمجھ کر اس کو قبول کر لیں اور جن کے اندر قبولیت کا مادہ نہیں ہے ان کے بارے میں پوری طرح یہ ثابت ہو جائے کہ ان کے اوپر سب کچھ واضح کیا جا چکا تھا، اس کے باوجود انہوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ پھاڑ دوں گا یا بیچ دوں گا۔ اس نے بلا بدیر اس سے اس زمانے سے انکار کر دیا۔ مدعو کی یہ رعایت داعی کے لئے دعوت کے عمل کو ایک انتہائی ذمہ دارانہ عمل بنا دیتی ہے۔ اس کو صبر کے انتہائی کٹھن مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہاں تک کہ بعض اوقات اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کی طاقت جواب دے رہی ہے اور اس نے اپنا حوصلہ کھو دیا ہے۔ مگر حق کے داعی کے لئے خدا کے یہاں جو عظیم انعام ہے اس کا مستحق وہ صرف اس وقت بنے گا جب کہ وہ صبر و استقامت کے ان مرحلوں میں ثابت قدم رہے گا۔ دعوت نہ صرف مدعو کے لئے بلکہ خود داعی کے لئے ایک سخت آزمائش ہے۔ ایسے وقت میں داعی کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے یقین کو نہ کھوئے۔ اگر حالات کی شدت کے تحت اس نے اپنے یقین کو کھو دیا تو وہ ایسی بات بولنے لگے گا جو عام لوگوں کو شاید اہم معلوم ہو مگر اللہ کی نظر میں اس سے زیادہ غیر اہم بات اور کوئی نہ ہو گی۔ 31-109 نصیحت لقمان قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو کچھ نصیحتیں کیں۔ اس سلسلہ میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader