Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 149

By Maulana Wahiduddin Khan

انہوں نے کہا: اے میرے بیٹے نماز قائم کرو، اچھے کام کی نصیحت کرو اور برائی سے رو کو اور جو مصیبت تم کو پہنچے اس پر صبر کرو۔ بے شک یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے۔ اور لوگوں سے بے رخی نہ کر۔ اور زمین میں اکڑ کر نہ چل۔ بے شک اللہ کسی اکڑنے والے اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز کو پست کر بے شک سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے۔ (لقمان ۱۷-۱۹) (bsmono-b6D) نماز قائم کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ با اصول کردار کی ایک علامت اور ذمہ دارانہ زندگی گزارنے کا ایک مقدس عہد ہے۔ اور اس قسم کی زندگی پر وہی لوگ قائم رہ سکتے ہیں جو عزم اور حوصلہ کے ساتھ دنیا میں زندگی گزارنے کے لئے تیار ہوں۔ دین کے اوپر خود عمل کرنا یا دوسرے کو دین کی طرف بلانا، دونوں ہی صبر چاہتے ہیں۔ اس کے لئے کرنے سے پہلے سوچنا پڑتا ہے۔ نفس کی خواہش پر چلنے کے بجائے نفس کے خلاف چلنا پڑتا ہے۔ اپنی بڑائی کو محفوظ کرنے کے بجائے اپنی بڑائی کو کھودینا پڑتا ہے۔ دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی تکلیفوں کو یک طرفہ طور پر برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہ سب حوصلہ مندی کے کام ہیں، اور حوصلہ مندانہ کردار ہی کا دوسرا نام اسلامی کردار ہے۔ ایک مومن کو بیک وقت دو ذمہ داریوں کے درمیان جینا ہوتا ہے۔ ایک طرف خدا سے خوف و تعلق پر مبنی زندگی گزارنا اور دوسری طرف انسانوں کے درمیان اخلاقی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ان کے درمیان رہنا۔ خدارخی زندگی قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اور جو شخص اپنا رخ اللہ کی طرف جھکادے اور وہ نیک عمل والا بھی ہو تو اس نے مضبوط رسی پکڑلی۔ اور اللہ ہی کی طرف ہے تمام معاملات کا انجام کار۔ اور جس نے انکار کیا تو اس کا انکار تم کو غمگین نہ کرے ۔ ہماری ہی طرف ہے ان کی واپسی۔ تو ہم ان کو بتادیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page