Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 151

By Maulana Wahiduddin Khan

معنی ہو، خواہ اس کو مان کر اپنی زندگی کا نقشہ درہم برہم ہوتا ہوا نظر آئے۔ جن لوگوں کے اندر یہ حوصلہ ہو وہی سچائی کو پاتے ہیں۔ جو لوگ یہ چاہیں کہ وہ سچائی کو اس طرح مانیں کہ ان کی بڑائی بدستور قائم رہے ایسے لوگوں کو سچائی کبھی نہیں ملتی۔ جو آدمی حق کی خاطر اپنی بڑائی کو کھودے وہ سب سے بڑی چیز کو پالیتا ہے اور وہ خدا کی بڑائی ہے۔ اس کی زندگی میں خدا اس طرح شامل ہو جاتا ہے کہ وہ اس کی یادوں کے ساتھ سوئے اور وہ اس کی یادوں کے ساتھ جاگے ۔ اس کے خوف اور امید کے جذبات تمام تر خدا کے ساتھ وابستہ ہو جائیں۔ وہ اپنا اثاثہ اس طرح خدا کے حوالے کر دیتا ہے کہ اس میں سے کچھ بچا کر نہیں رکھتا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی آنکھیں جنت کے ابدی باغوں میں ٹھنڈی ہوں گی۔ رسول کا نمونہ رسول اور اصحاب رسول پر مختلف حالات گزرے۔ ہر صورت حال میں وہ حق پر پوری طرح قائم رہے۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے : تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے، اس شخص کے لئے جو اللہ کا اور آخرت کے دن کا امید وار ہو اور کثرت سے اللہ کی یاد کرے۔ (الاحزاب (۲۱) رسول اور اصحاب رسول کی زندگیاں قیامت تک کے اہل ایمان کے لئے خدا پرستانہ زندگی کا نمونہ ہیں، اس بات کا نمونہ کہ اللہ اور آخرت کی امیدواری کے معنی کیا ہیں۔ اللہ کو یاد کرنے کے معنی کیا ہیں۔ اللہ کو یاد کرنے کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ مشکل حالات میں ثابت قدمی کسے کہتے ہیں۔ خدا کے وعدوں پر بھروسہ کس طرح کیا جاتا ہے۔ اضافہ پذیر ایمان کیا ہے اور وہ کیوں کر حاصل ہوتا ہے۔ خدا سے کئے ہوئے عہد کو پورا کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ رسول اور اصحاب رسول نے ان چیزوں کا آخری نمونہ قائم کر دیا۔ شدید ترین حالات میں بھی انہوں نے کوئی کمزوری نہیں دکھائی۔ انہوں نے ہر معاملہ میں اسلامی فکر اور اسلامی کردار کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page