Urdu book · مطالعہ قرآن

رسول کا نمونہ

Urdu book, p. 153

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ کے حکم کے آگے جھکنے والا ہو۔ وہ اللہ پر یقین کرنے والا ہو۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اللہ کے لئے یکسو ہو جائے۔ اس کی زندگی قول و فعل کے تضاد سے خالی ہو۔ وہ ہر حال میں عاجز رہنے والا ہو۔ اللہ کی بڑائی کے احساس نے اسے متواضع بنا دیا ہو۔ وہ دوسروں کی ضرورت پوری کرنے کو بھی اپنی ذمہ داری شمار کرتا ہو۔ وہ روزہ دار ہو جو نفس کو کنٹرول کرنے کی تربیت ہے۔ وہ شہوانی خواہشات کے مقابلہ میں عفیف اور پاک دامن ہو۔ اس کے صبح و شام اللہ کی یاد میں بسر ہونے لگیں۔ یہ اوصاف جس طرح مردوں سے مطلوب ہیں اسی طرح وہ عورتوں سے بھی مطلوب ہیں۔ ان اوصاف کے اظہار کا دائرہ بعض اعتبار سے دونوں کے درمیان مختلف ہے۔ مگر جہاں تک خدا اوصاف کا تعلق ہے وہ دونوں کے لئے یکساں ہے۔ کوئی عورت ہو یا کوئی مرد وہ اسی وقت خدا کے بالمقابل قابل قبول ہو گا کہ وہ مذکورہ صفات سے متصف ہو کر خدا کے یہاں پہنچ کے یہاں قابلِ ہوں سہارے کا جب کہ وہ ان دل محسوس سے منصف ہو ہر خدا کے یہاں ہے۔ 33-114 آخری رسول قرآنِ میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ محمد ﷺ خدا کے آخری رسول ہیں۔ اس سلسلے میں قرآن میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ مدعیہ عدالت آ رہی ہوں ہیں۔ اس لئے میں ارشاد ہوا ہے : محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں کے خاتم ہیں۔ اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ (الاحزاب (۴۰) خاتم النبین کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ آپ نبیوں کی مہر ہیں۔ خاتم کا لفظ اسٹیمپ (stamp) کے لئے نہیں آتا بلکہ سیل (seal) کے لئے آتا ہے۔ یعنی آخری عمل۔ لفافہ کو سیل کرنے کا مطلب اس کو آخری طور پر بند کرنا ہے کہ اس کے بعد نہ کوئی چیز اس کے اندر سے باہر نکلے اور نہ باہر سے اندر جائے۔ چنانچہ عربی میں قوم کا خاتم قوم کے آخری شخص کو کہا جاتا ہے۔ (خاتم القوم آخرهم) قرآن میں یہ اعلان زید اور زینب کے قصے کے ذیل میں کیا گیا جس کی تفصیل تفسیر کی ہر کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس مخصوص واقعہ کے ذیل میں آپ کے خاتم النبین ہونے کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page