رسول کا نمونہ
Urdu book, p. 154
By Maulana Wahiduddin Khan
اعلان کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد چونکہ کوئی نبی آنے والا نہیں، اس لئے ضروری ہے کہ تمام خدائی باتوں کا اظہار آپ کے ذریعہ سے کر دیا جائے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ خدا کے آخری رسول تھے، اس کے بارے میں قرآن کی یہ آیت ایک براہ راست بیان کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ قرآن میں یہ بیان بالواسطہ انداز میں بھی موجود ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں بتایا گیا ہے کہ یہ کتاب ایک محفوظ کتاب ہے اس کی محفوظیت کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ قرآن کا یہ بیان بھی اس بات کا ایک بالواسطہ ثبوت ہے کہ پیغمبر اسلام کے بعد کوئی دوسرا رسول آنے والا نہیں۔ کیوں کہ جب خدا کا ہدایت نامہ اپنی کامل اور محفوظ صورت میں دنیا میں موجود ہو تو ایسی حالت میں سنت اللہ کے مطابق کوئی نبی نہیں بھیجا جاتا۔ پیغمبر کا منصب قرآن میں پیغمبر اسلام کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: اے نبی، ہم نے تم کو گواہی دینے والا اور خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اللہ کی طرف، اس کے اذن سے، دعوت دینے والا اور ایک روشن چراغ۔ (الاحزاب ۴۵-۴۶) شاہد، مبشر، نذیر، داعی یہ سب ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں۔ پیغمبر کا مشن یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو زندگی کی حقیقت سے آگاہ کرے۔ وہ لوگوں کو جنت اور جہنم کی خبر دے، یہ ایک دعوتی عمل ہے اور اسی دعوتی عمل کی بنیاد پر پیغمبر آخرت کی عدالت میں ان لوگوں کے بارے میں گواہی دے گا جن پر اس نے امر حق پہنچایا اور پھر کسی نے مانا اور کسی نے نہ مانا۔ چراغ کا کام یہ ہے کہ وہ اندھیرے میں چھپی ہوئی چیزوں کو نمایاں کر دے تا کہ جو چیز دکھائی نہیں دے رہی تھی وہ دکھائی دینے لگے۔ یہی کام پیغمبر کی لائی ہوئی خدائی ہدایت کا ہے۔ لوگ افکار و روایات اور توہمات کے فکری جنگل میں گم ہیں۔ خدا کے رسول کی حیثیت اس فکری اندھیرے میں ایک روشن چراغ کی ہے، تاہم چراغ روشن ہونے کے باوجود ہی شخص چیزوں کو اندھیرے میں ایک دوسری پرنسپل ہے۔ اپنے بچوں کی تربیت کے بارے میں پیرو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader