Urdu book · مطالعہ قرآن

رسول کا نمونہ

Urdu book, p. 155

By Maulana Wahiduddin Khan

ان کی صحیح صورت میں دیکھ سکے گا جو اپنی آنکھیں کھلی رکھے اسی طرح پیغمبرانہ ہدایت کے باوجود اس سے رہنمائی صرف اس شخص کو ملے گی جو کھلے ذہن کے ساتھ اس پر غور کرنے کے لئے تیار ہو۔ اس دنیا میں بند آنکھ کے لئے کوئی چیز دیکھنا مقدر نہیں۔ اسی طرح بند ذہن کے لئے بھی کسی حقیقت کو دریافت کرنا ممکن نہیں۔ 33-116 قول سدید اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور درست بات کہو۔ وہ تمہارے اعمال سدھار دے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔ (الاحزاب (۷) کلام کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ہے سدید کلام، دوسرا ہے غیر سدید کلام۔ سدید کلام وہ ہے جو عین مطابق واقعہ ہو جو واقعاتی تجزیہ پر مبنی ہو۔ جو ٹھوس دلائل کے ساتھ پیش کیا جائے، اس کے برعکس غیر سدید کلام وہ ہے جس میں حقیقت کی رعایت شامل نہ ہو۔ جس کی بنیاد ظن و گمان پر قائم ہو۔ جس کی حقیقت محض رائے زنی کی ہو نہ کہ حقیقت واقعہ کے اظہار کی۔ اول الذکر کلام مخلصانہ کلام ہے اور ثانی الذکر کلام غیر مخلصانہ کلام۔ درست کلام (قول سدید) کا نتیجہ ہمیشہ درست عمل ہوتا ہے۔ درست کلام کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کی سوچ عین مطابق واقعہ ہے۔ اور جب سوچ مطابق واقعہ ہو تو عملی منصوبہ بندی بھی مطابق واقعہ ہوگی۔ مطابق واقعہ منصوبہ بندی لازماً معاملات کو درست کرتی ہے اور کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے۔ 33-117 اختیاری عمل ہم امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے اس کو اٹھانے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page