Urdu book · مطالعہ قرآن

رسول کا نمونہ

Urdu book, p. 156

By Maulana Wahiduddin Khan

سے انکار کیا اور وہ اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ بے شک وہ ظالم اور جاہل تھا۔ تاکہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو سزا دے اور مومن مردوں اور مومن عورتوں پر توجہ فرمائے اور اللہ بخشنے والا، مہربان ہے (الاحزاب ۷۲-۷۳) امانت سے مراد اختیار ہے۔ اختیار کو امانت اس لئے فرمایا کہ وہ اللہ کی ایک چیز ہے جس کو اس نے عارضی مدت کے لئے انسان کو بطور آزمائش دیا ہے تاکہ انسان خود اپنے ارادہ سے خدا کا تابعدار بنے۔ امانت، دوسرے لفظوں میں، اپنے اوپر خدا کا قائم مقام بننا ہے، اپنے آپ پر وہ کرنا ہے جو خدا ستاروں اور سیاروں پر براہ راست کر رہا ہے یعنی اپنے اختیار سے اپنے آپ کو خدا کے کنٹرول میں دے دینا۔ اس کائنات میں صرف اللہ حاکم ہے اور تمام چیزیں اس کی محکوم ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کی مرضی ہوئی کہ وہ ایک ایسی آزاد مخلوق پیدا کرے جو کسی جبر کے بغیر خود اپنے اختیار سے وہی کرے جو خدا اس سے کروانا چاہتا ہے۔ یہ اختیاری اطاعت بڑی نازک آزمائش تھی۔ آسمان اور زمین اور پہاڑ بھی اس کا حل نہیں کر سکتے۔ تاہم انسان نے شدید اندیشہ کے باوجود اس کو قبول کر لیا۔ اب انسان موجودہ دنیا میں خدا کی ایک امانت کا امین ہے۔ اس کو اپنے اوپر وہی کرنا ہے جو خدا دوسری چیزوں پر کر رہا ہے۔ انسان کو اپنے آپ پر خدا کا حکم چلانا ہے۔ انسان حالت امتحان میں ہے اور موجودہ دنیا اس کے لئے وسیع امتحان گاہ۔ یہ امانت ایک بے حد نازک ذمہ داری ہے، کیوں کہ اسی کہ وجہ سے جزا اور سزا کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ دوسری مخلوقات مجبور و مقہور ہیں، اس لئے ان کے واسطے جزا اور سزا کا مسئلہ نہیں۔ انسان آزاد ہے۔ اس لئے وہ جزا اور سزا کا مستحق بنتا ہے۔ جو مرد یا عورت موجودہ دنیا میں اپنی آزادی کا صحیح استعمال کریں، آزادی کے باوجود وہ خدا کے پابند بن کر رہیں، ان کے لئے آخرت کی ابدی جنتیں ہیں۔ اور جو لوگ آزادی پا کر سرکش ہو جائیں ان کے لئے آخرت کا ابدی عذاب۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page